افریقہ میں ہیرے کے کان کنوں کی کٹھن زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

11 سال پر محیط خانہ جنگی کے دوران افریقی ملک سیرالیون اپنے ’خونی ہیروں‘ کے لیے خاصا بدنام ہو گیا تھا۔

ملک کے شمال میں واقع ہیروں کی کانوں پر قبضے کے لیے باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان خونریز جنگ ہوئی۔ بہت سے باغیوں کو ہیروں کے بین الاقوامی خریداروں کی پشت پناہی حاصل تھی۔

اس جنگ کے خاتمے کے 14 سال بعد کونو ضلعے میں ہیروں کی کان کنی اب بھی جاری ہے۔

ایک جنوبی افریقی کمپنی کوئدو ہولڈنگز جدید ترین مشینری کی مدد سے زمین کی گہرائیوں میں جا کر ہیرے نکالتی ہے۔

اس کے قریب ہی چند دیہاتی دریا کے کنارے چھاننی، بالٹی اور بیلچے جیسی قدیم ٹیکنالوجی کی مدد سے ہیرے ڈھونڈے رہے ہیں۔

ان میں سے ایک فیلو ہیں جو 23 برس کونو میں کام کرتے رہے لیکن انھیں جنگ کی وجہ سے وہاں سے نکلنا پڑا۔

دیسی طریقوں سے ہیرے ڈھونڈے والے بہت سے لوگ بےحد غریب ہیں اور ان میں سے بہت سوں کا کہنا ہے کہ انھیں کئی مہینوں سے کوئی ہیرا نہیں ملا۔

پھر بھی ایک ایسے ملک میں جہاں 70 فیصد نوجوان بےروزگار ہیں، کان کنی سے بہت سے لوگوں کو روزگار مل جاتا ہے۔

Men pass a bucket to each other whilst standing in the river تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

بہت سے کان کن تین لوگوں کے گروہ کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ فیلو دو دوستوں کے ساتھ مل کر ہیرے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک بالٹی لے کر غوطہ لگاتا ہے اور دریا کی تہہ سے کیچڑ اور گارا نکال لاتا ہے، جب کہ ایک اور شخص اسے پکڑے رکھتا ہے۔

تیسرا شخص بالٹی لے کر اسے دریا کے کنارے انڈیل دیتا ہے۔

اس کے بعد اس کیچڑ میں سے ہیروں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔

Two men smoke cigarettes together تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

یہ تینوں مرد اپنے اپنے کردار بدلتے رہتے ہیں کیوں کہ پانی بہت ٹھنڈا ہے۔

فیلو سردی کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ پانی سے باہر آتے ہی خود کو گرم رکھنے کے لیے سستی رم شراب کی چسکی لگاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’یہ کام مشکل اور تھکا دینے والا ہے۔ اگر میرے پاس تعلیم ہوتی تو میں فوراً کوئی اور کام شروع کر دیتا۔‘

The landscape is full of holes and piles of mud تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

دریا کے کنارے دلدلی علاقہ ان دیسی کان کنوں نے کھود ڈالا ہے، اور وہ جگہ جگہ کام کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

A man holds out a small diamond تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

آخر کار فیلو کی ٹیم کو ایک ننھا سا ہیرا مل ہی گیا۔

The men shovel dirt into a trough and then wash it with water تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

بعض اوقات کان کن پیسے جمع کر کے ’راکر‘ نامی ایک مشین خرید لیتے ہیں، جس کی مدد سے کیچڑ میں سے ہیرے ڈھونڈنے میں آسانی ہوتی ہے۔

A man sits selling sieves تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

تاہم فیلو کے پاس ایسی کوئی مشین نہیں ہے۔ ’ہم کسی قسم کی مشین نہیں خرید سکتے اور ہمیں صرف بالٹی، بیلچے اور چھاننی سے کام لینا پڑتا ہے۔‘

A group of men walk and cycle along a road with their equipment تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

ہیرا ملنے کے بعد فیلو کام بند کر اپنے ساتھیوں سمیت قریبی قصبے کا رخ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت اچھا دن ہے۔ ہم نے ایک مہینے سے ہیرے کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔‘

Two men shake hands with each other تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

گھر جاتے ہوئے ان کی ملاقات اپنے بڑے بھائی سے ہو گئی۔

Two men sit inside their house smiling for the camera تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

اپنے گھر پہنچ کر فیلو اپنے چچا کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہیں۔

جنگ کی دوران اسی کمرے کے باہر فیلو کی ماں کو باغیوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس دوران ان کا تمام گھر جل کر راکھ ہو گیا تھا۔

اگلے دن فیلو کوئدو قصبے میں جا کر اپنا ہیرا فروخت کرتے ہیں۔

ایک قیراط کے 40 فیصد خالص ہیرے کی قیمت 3200 ڈالر ہے۔ تاہم فیلو کا ہیرا بہت کم معیار کا اور چھوٹا ہے۔ انھیں صرف 35 ڈالر ملیں گے۔ تاہم وہ اس پر بھی خوش ہیں۔

A man walks through the town as a goat runs past تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Acland

تصاویر بشکریہ اولیویا ایکلینڈ

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں