شام سے روسی افواج کا ’انخلا‘ شروع

تصویر کے کاپی رائٹ Russian Defence Ministry

روس کی فوج کے جنرل سٹاف والیری گیراسیموف کے مطابق روس نے شام میں اپنےفوجیوں کی تعداد میں کمی کرنا شروع کر دی ہے۔

والیری گیراسیموف کے مطابق روسی وزارتِ دفاع شام میں افواج کی کمی کے لیے اقدامات شروع کر رہی ہے۔

شام میں روسی افواج کے انخلا اور جنگی طیاروں کی بمباری

روسی صدر پوتن کا شام سے فوج واپس بلانے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ روس کا واحد ایئر کرافٹ کیریئر ایڈمرل کوزنیٹسوو سب سے پہلے وطن واپس جائے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق روس کی جانب سے یہ اعلان ترکی اور روس کی شام میں جاری جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ بحری جہاز اکتوبر سے شام کے ساحلی علاقوں میں شامی صدر بشار الاسد کے مخالفین کے خلاف اپنی خدمات سر انجام دے رہا تھا۔

روس نے شامی حکومت کے باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

روس اس سے پہلے ہی اپنی فوج کی شام سے واپسی کا اعلان کر چکا ہے۔

روس کے خبر رساں اداروں نے والیری گیراسیموف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ولادیمر پوتن کے فیصلے کے تحت وزارتِ دفاع شام میں افواج کی کمی کے لیے اقدامات شروع کر رہی ہے۔

شام میں روسی فوج کے کمانڈر اینڈری کرتاپولوو کا کہنا ہے کہ فوجوں کے انخلا کا کام مکمل ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اینڈری کرتاپولوو کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس کے پاس شام میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کی کافی دفاعی صلاحیت ہے۔

ولادیمر پوتن نے حلب سے باغیوں کے نکل جانے کے بعد 29 دسمبر کو شام سے روسی افواج کے انخلا کا حکم دیا تھا۔

ستمبر 2015 میں روس کی شام کی خانہ جنگی میں مداخلت سے اس جنگ میں شامی حکومت کا پلڑا بھاری ہوگیا تھا اور اس کے بعد حکومتی افواج نے باغیوں کے قبضے سے کئی علاقے چھڑوائے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں