دہشت گرد حملے: پیرس میں سیاحوں کی تعداد میں کمی

پیرس تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لووغ عجائب گھر کو سنہ 2015 میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا عجائب گھر قرار دیا گیا تھا

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سنہ 2015 میں ہونے والے شدت پسند حملے کے بعد سنہ 2016 میں شہر کی مشہور آرٹ گیلریوں میں سیاحوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی۔

پیرس کے معروف لُوو عجائب گھر میں غیرملکی سیاحوں کی تعداد 20 فیصد کمی کے ساتھ 53 لاکھ رہی۔

اورسے عجائب گھر میں آنے والوں کی مجموعی تعداد 13 فیصد کمی کے ساتھ 30 لاکھ رہی۔

سنہ 2016 میں پومپیدو سینٹر آنے والوں کی مجموعی تعداد نو فیصد بڑھ کر 33 لاکھ رہی لیکن یہ بتایا جاتا ہے کہ غیرملکی سیاحوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے فرانسیسی سیاحوں کی زیادہ تعداد یہاں آئی۔

فرانسیسی دارالحکومت میں 13 نومبر 2015 کو ہونے والے مسلح حملے اور بم دھماکوں کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان حملوں میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گذشتہ سال جولائی جنوبی شہر نیس میں فرانس کے قومی دن کے موقع پر ایک ٹرک کے ذریعے ساحل سمندر پر جشن منانے والے افراد کو کچل دیا گیا تھا جس میں 86 افراد کی ہلاکت ہوگئی تھی۔

شدت پسند حملوں کے علاوہ جون میں سیلاب کے باعث بھی لُوو اور اورسے عجائب گھروں کو پانچ روز کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption پیرس میں 13 نومبر 2015 کو ہونے والے مسلح حملے اور بم دھماکوں کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں

لُوو کے ڈائریکٹر ژاں لوک مارٹنیز نے لی فگارو اخبار کو بتایا کہ سنہ 2016 'ایک مشکل سال' رہا ہے اور سیاحوں کی تعداد میں کمی سے کم از کم ایک کروڑ یورو کا نقصان ہوسکتا ہے، جس میں کتب خانوں یا ریستورانوں سے حاصل ہونے والی رقم شامل نہیں ہے۔

لُوو عجائب گھر کو سنہ 2015 میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا عجائب گھر قرار دیا گیا تھا اور یہاں بالغ افراد کا داخلہ 15 یورو ہے۔

اورسے عجائب گھر میں سنہ 2016 میں 30 لاکھ سیاح آئے جبکہ 2015 میں یہ تعداد 24 لاکھ تھی۔

پیرس کنونشن اینڈ وزٹرز بیورو کے مطابق پیرس میں غیرملکیوں کی ہوٹل بکنگ سنہ 2016 میں دس فیصد کم رہی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں