یورپ میں شدید سردی کی لہر، ہر طرف برف ہی برف

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یونان کے شہر آرگوس میں برفباری

یورپ بھر میں منجمد کرنے والے درجۂ حرارت کے باعث کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ یونان کے جزیروں سے لے کر اٹلی تک برف کی چادر بچھ گئی ہے۔

اٹلی میں بحری اور فضائی سفر کی سہولیات تعطل کا شکار ہوئی ہیں جبکہ جنوبی علاقوں میں سکول پیر تک بند رہیں گے۔

* روس کے ساحل پر برف کے قدرتی گولے

ترکی بھی سرد موسم سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ باسفورس کی بندرگاہ کو بھی استنبول میں برفانی طوفان کے بعد لنگر اندازی کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

پولینڈ میں سردی کے باعث کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ روس میں رات کے وقت درجۂ حرارت منفی 30 تک پہنچ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یونان میں پناہ گزینوں کے کیمپ بھی برف سے متاثر

یونان کے شمالی علاقوں میں درجۂ حرارت منفی 15 تک پہنچ گیا ہیں جہاں گذشتہ ہفتے ایک افغان پناہ گزین سردی کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔ وہاں تمام سڑکیں بند ہیں۔

ایتھنز میں بھی درجۂ حرارت منفی صفر سے نیچے ہیں اور تمام جزیرے برف سے ڈھک چکے ہیں۔

یونان کے بیشتر جزیروں پر پناہ گزین آباد ہیں ان میں سے بیشتر کو عارضی پناہ گاہوں اور گرم خیموں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption روس مںی سردی کی شدید ترین لہر

اٹلی میں سات افراد کی ہلاک کے بعد بے گھر افراد کے لیے بنے ہاسٹلز دن رات کھلے ہیں۔ مرنے والوں میں پانچ افراد کھلے آسمان تلے ہلاک ہو ئے۔

روم کے ہوائی اڈے بھی سنیچر کو بند رہے جہاں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے ہے۔

روس میں 120 سال کے بعد اس قدر سردی پڑی ہے۔ یہی حال پراگ کا ہے جہاں تین افراد سردی سے ہلاک ہوئے۔

بلغاریہ سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق دو عراقی پناہ گزین جنوبی جنگل میں مردہ پائے گئے۔

اتوار کو بھی یورپ کے زیادہ تر حصوں میں موسم سرد رہنے کا امکان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولینڈ میں درجۂ حرارت منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا

اسی بارے میں