برطانوی وزیر کے خلاف بیان پر اسرائیلی سفیر کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانیہ کے لیے اسرائیل کے سفیر نے اپنے عملے کے ایک رکن کی جانب سے برطانوی وزراتِ خارجہ کے وزیرِ کو ہٹائے جانے کی بات کہنے پر معذرت کی ہے۔

خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ایک فلم میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی سفارتخانے کے ایک سینیئر سیاسی اہلکار شائی موزاٹ نے لندن کے ہوٹل میں دورانِ گفتگو یہ بات کہی۔

وہ ایک رپورٹر سے کہہ رہے ہیں کہ ’سر ایلن کافی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔‘

* ’اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت میں لے جائیں گے‘

* ’شرمناک‘ اور اسرائیل مخالف قرارداد قبول نہیں: نیتن یاہو

اسرائیلی سفیر مارک ریگیو نے کہا ہے کہ یہ سفارتخانے یا حکومت کا موقف نہیں ہے۔

یہ گفتگو الجزیرہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے دوران اکتوبر 2016 میں ریکارڈ کی گئی۔

بی بی سی کو علم ہوا ہے کہ اس گفتگو میں شامل مِس سٹرٹزولو نے سول سروس سے استعفٰی دے دیا ہے۔

اس گفتگو کے دوران موزاٹ کہتے ہیں کہ ’کیا میں کچھ ایم پیز کے نام تجویز کروں جنہیں ہٹایا جانا چاہئیے۔‘

جس پر سٹرٹزولو کہتی ہیں ’ہر ایم پی کچھ نہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برطانوی وزیرِ خارجہ بورس جانس کے بارے میں کہا کہ وہ اچھے انسان ہیں

سر ایلن ڈنکن جنھوں نے غزہ میں یہودی بستیوں کو دنیا کے چہرے پر داغ قرار دیا تھا انھیں اسرائیلی اہلکار موزاٹ نے گفتگو میں بڑا مسئلہ قرار دیا جبکہ برطانوی وزیرِ خارجہ بورس جانس کے بارے میں کہا کہ وہ اچھے انسان ہیں۔

انھوں نے کہا ’وہ بس لاپرواہ ہیں۔ وہ بے وقوف ہیں لیکن وہ وزیرِ خارجہ بن گئے بنا ذمہ داریوں کے۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو وہ ان کی غلطی نہیں ہوگی۔ یہ ایلن ڈنکن کی ہوگی۔ ‘

سر ایلن ڈنکن نے سنہ 2014 میں اسرائیلی بستیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے چوری قرار دیا تھا۔

بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا ’یہ سب قبضہ، الحاق، لا قانونیت، لاپرواہی، ساز باز کا وہ مرکب ہے جو اسرائیل کے لیے باعثِ ندامت ہے۔‘

سر ایلن اس وقت یمن اور اومان کے لیے خصوصی ایلچی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مزید بستیوں کی تعمیر کو روکنے کے لیے عالمی قانون کو حرکت میں لانا ہوگا۔ ‘

اسرائیلی سفارتخانے کے وزیر نے ایلن ڈنکن کے بارے میں بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناقابلِ قبول ہے۔

بیان کے مطابق ’یہ باتیں سفارتخانے کے جونئیر اہلکار نے کہی ہیں جو اسرائیل کا سفارتکار نہیں ہے اور بہت جلد ان کی سفارتخانے کی ملازمت بھی ختم ہونے والی ہے۔‘

برطانوی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی سفیر نے معافی مانگی ہے اور یہ واضح ہے کہ یہ سفارتخانے اور اسرائیلی حکومت کے موقف کی عکاسی نہیں کرتا۔‘

’برطانیہ کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں