امریکی الزامات ’وچ ہنٹ‘ کی یاد دلاتے ہیں: روس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

روس نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے ہیکنگ کے امریکی الزامات ’وِچ ہنٹ‘ کی یاد دلاتے ہیں۔

کریملِن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ان کا ملک الزامات سے تنگ آ چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اِن الزامات پر مبنی امریکی انٹیلیجنس رپورٹ بے بنیاد ہے۔

یہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انٹیلیجنس رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد سامنے آنے والا پہلا روسی ردِ عمل ہے۔

ابھی تک سامنے لائی جانے والی رپورٹ میں الزامات لگائے گئے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی ای میلوں کو ہیک کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ٹرمپ کی ڈیموکریٹک حریف ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچایا جا سکے اور انتخابات پر اثر انداز ہوا جا سکے۔

پیر کے روز اپنے بیان میں مسٹر پیکوف نے اس بات کی تردید کی کہ ماسکو کسی طور بھی ہیکنگ میں ملوث تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’بے بنیاد الزامات جن کے ساتھ کوئی ثبوت نہیں ہیں کو بچگانہ اور غیر پیشہ ورانہ طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم وہ کن معلومات کی بنیاد پر ایسا کر رہے ہیں۔ یہ دعوے ’وچ ہنٹ کے مترادف ہیں۔‘

مسٹر ٹرمپ نے بھی گذشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ہیکنگ کے الزامات کی مذمت کرنے کے لیے ’وچ ہنٹ‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی جن کی وہ مسلسل تردید کر رہے ہیں۔

تاہم ان کے چیف آف سٹاف رینس پریبس نے فاکس نیوز سنڈے کو بتایا کہ نو منتخب صدر جمعہ کے روز انٹیلیجنس اداروں کے سربراہوں کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے مندرجات کو تسلیم کرتے ہیں۔

مسٹر پریبس نے کہا کہ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتے روس میں موجود کچھ شخصیات اس مہم کے پیچھے تھیں۔

انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا ٹرمپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے براہِ راست ہیکنگ کا حکم دیا۔

اسی بارے میں