سام سنگ کے سربراہ پر کرپشن سکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام

  • 11 جنوری 2017
لی جائے یونگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لی جائے یونگ اس وقت سام سانگ کے نائب صدر ہیں لیکن 2014 میں اپنے والد اور کمپنی کے چیئرمین لی کُن ہی پر دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے وہ کمپنی کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں

جنوبی کوریا کی معروف کمپنی سام سانگ کے سربراہ اور اگلے وارث لی جائے یونگ سے کرپشن سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں سوالات کیے جائیں گے۔

اس سکینڈل میں ملوث ملک کی صدر پاک گُن ہے کے خلاف مواخذے کی تحریک چلی اور پچھلے سال نو دسمبر کو پارلیمان میں ووٹنگ کے بعد ان کو معطل کر دیا گیا تھا۔ جنوبی کوریا کے قانون کے مطابق آئینی عدالت اب اس معطلی کے حق یا مخالفت میں چھ مہینے کے عرصے میں فیصلہ سنائے گی۔ اس وقت تک ملک کی باگ ڈور وزیرِاعظم کے پاس ہو گی۔

سام سنگ کمپنی پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر پاک گُن ہے کی دوست اور کرپشن سکینڈل کی مرکزی کردار چوئی سُن سِل کی تنظیموں کو 31 لاکھ ڈالر کے عطیات دیے تھے اور انھوں نے ایک متنازع کاروباری فیصلے کی سیاسی حمایت کے عوض یہ عطیات دیے تھے۔

لی جاۓ یونگ جمعرات کے روز استغاثہ کی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔ وہ پہلے ہی سیاست دانوں کو اپنے دفاع میں ثبوت پیش کر چکے ہیں لیکن اب تفتیشی افسران لی جائے یونگ سے پوچھ گچھ کریں گے۔

لی جائے یونگ اس بات کا بھی اعتراف کر چُکے ہیں کہ کمپنی نے چوئی سُن سل کی بیٹی کو گھڑسواری کی مد میں پیسے اور گھوڑے دیے تھے لیکن وہ اب اس فیصلے پر شرمندہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واضح رہے کہ دسمبر میں پارلیمانی سماعت کے دوران سام سنگ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چوئی سُن سل کی دو تنظیموں کو ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر کے عطیات دیے ہیں لیکن اس کے عوض کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

لی جائے یونگ اس وقت سام سانگ کے نائب صدر ہیں لیکن 2014 میں اپنے والد اور کمپنی کے چیئرمین لی کُن ہی کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے وہ کمپنی کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں۔

اسی ہفتے سام سنگ کے دو افسران کرپشن سکینڈل کیس میں بطور گواہ پیش ہوئے جہاں ان سے استغاثہ نے سوالات کیے۔

صدر پاک گُن ہے نے اس کیس کے حوالے سے معافی مانگی ہے لیکن کسی بھی جرم کا الزام قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں