ووکس ویگن امریکہ کو چار ارب ڈالر جرمانہ دینے پر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گاڑیاں بنانے والی معروف جرمن کمپنی ووکس ویگن ڈیزل گاڑیوں میں مضر صحت گیس کے اخراج جانچنے کے طریقہ کار میں جعل سازی کے جرم میں امریکہ کو چار ارب ڈالر سے زیادہ کا جرمانہ ادا کرنے پر تیار ہوگئی ہے۔

کمپنی اس سے پہلے امریکہ کی ماحولیات کی ایجنسی کو 16ارب سے زیادہ جرمانہ ادا کر چکی ہے اور اس طرح جعل سازی کی وجہ سے کمپنی کا مجموعی نقصان 19 ارب ڈالر سے تجاویز کر جائے گا۔ بعض ماہرین نے کہا ہے کہ کمپنی کا مجموعی نقصان 21 ارب ڈالرتک ہو سکتا ہے۔

2015 میں جب سیکینڈل سامنے آیا تو ووکس ویگن نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے ڈیزل سے چلنے والی ایک کروڑ دس لاکھ گاڑیوں میں ایسا آلہ نصب کیا تھا جو گاڑی کے اخراج میں گھپلا کرکے اسے کم دکھائے۔ یہ آلہ ڈیفیٹ ڈیوائس کے نام سے معروف ہوگیا تھا۔

اس آلے کا پتا اس وقت چلا جب ایک کار کو ٹیسٹ کرتے وقت اس کے انجن کو کمتر اخراج پر چلایاگیا۔ تاہم جب یہ ہی گاڑی سڑک پر آئی تو اس کے انجن سے اخراج کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ تھی۔

اس سکینڈل کی وجہ سے ووکس ویگن کے حصص کی قدر میں 40 فی صد تک کمی واقع ہوگئی تھی جس پر سابق چیئرمین مارٹن وِنٹرکورن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ معاہدے کے تحت امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے جرم کا بھی اعتراف کرے گی۔

کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے ابھی تک امریکہ کے لا اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہونے والے معاہدے کی باضابطہ توثیق نہیں کی ہے۔

عالمی آٹوموٹو ریسرچ کمپنی ایورکور کے ارنڈ ایلنگہورسٹ نے کہا ہے کہ یہ مجوزہ معاہدہ ایک اچھی خبر ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کمپنی کو جعل سازی کا مجموعی نقصان 21 ڈالر ہوگا لیکن اس سے کپمنی کو اس قضیے سے جان چھڑا کر آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

سکینڈل کے سامنے آنے کے باوجود ووکس ویگن کی گاڑیوں کی فروخت میں کوئی قابل ذکر کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔