جنسی حملے کے مجرم نے کٹہرے میں اپنی ہی گردن کاٹ لی

برطانیہ کے علاقے ہیورفورڈ ویسٹ میں جنسی حملے کے الزام میں گرفتار ایک شخص نے عدالت کے کٹہرے میں اپنی گردن کاٹ لی۔

لوکاسز رابرٹ نمی 33 سالہ شخص کو ایک دکان میں کام کرنے والی خاتون کو دبوچنے اور زبردستی بوسہ دینے کے الزام میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

انھیں عدالت میں سزا سنانے کے لیے پیش کیا تھا جب انھوں نے اپنی گردن کاٹ لی۔

انھیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ انھیں یہ ہتھیار کہاں سے ملا کیونکہ عدالت میں سکیورٹی کا انتظام بالکل ہوائی اڈے کی سکیورٹی جیسا ہوتا ہے جہاں سکینرز لگے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں جانب گارڈز بھی ہو تے ہیں۔

واقعے کے بعد ان کا کافی خون بہہ گیا اور وہ بے ہوش ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی غرض سے عدالت کو بند کر دیا گیا تاہم پولیس اس سلسے میں کسی سے پوچھ گچھ نہیں کر رہی۔

اسی بارے میں