کیا اوباما کے آنسوؤں کو بعض نے مگرمچھ کے آنسو سمجھا؟

  • 11 جنوری 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اوباما کو امن کا نوبیل انعام ملنے پر بہت سے لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا تھا

امریکی صدر براک اوباما نے بالآخر قوم سے الوداعی خطاب کر ڈالا۔ ایسے موقع پر ایک زیرک سیاستداں اور اچھے مقرر کی طرح صورتحال کو بھانپ کر پرفارم کرنا انہیں خوب آتا ہے۔ انھیں مجمع کو ہنسانے اور رلانے پر ملکہ حاصل ہے۔ اور اپنے الوداعی خطاب میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر اس کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

ان کی تقریر کے بعد'ہیش ٹیگ اوباما فیئرویل' یعنی اوباما خدا حافظ ٹویٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا۔

جہاں انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرنے کا تانتا بندھا، وہیں ان کے نقاد بھی پے درپے وار کرنے سے نہیں چُوکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

جان وِٹ نے ٹویٹ کیا: ''اوباما کے الوداعی آنسو لیبیا، شام اور افغانستان کے اُن انگنت شہریوں کے آنسوؤں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جنہیں ان کی خارجہ پالیسی کے ہاتھوں زک پہنچی۔'

سارہ عبداللہ نے لکھا: 'شام، لیبیا، یمن، عراق اور غزہ کے لوگ صرف تین باتوں کے لیے اوباما کو یاد کریں گے اور وہ ہے بم، بم اور زیادہ بم۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ممتاز معلوف نے سنہ دوہزار سولہ میں مختلف ملکوں پر گرائے جانے والے امریکی بموں کی گنتی دیتے ہوئے پوچھا: 'کیا آپ نے نوبیل امن انعام جیتنے والے کو کہتے سنا کہ اس نے سنہ دو ہزار سولہ میں کتنے ملکوں پر بم گرائے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس تصویر میں دی گئی بموں کی تعداد کے بارے میں مصدقہ طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا

ایجنٹ ایلزبتھ نے نشتر چبھوتے ہوئے لکھا: 'اوباما نے کسی بھی نوبیل انعام جیتنے والے کے مقابلے میں سب سے زیادہ بچوں کو ڈرون سے ہلاک کیا۔ ذرا تالیاں تو بجائیں بھئی!'

بہت سے دوسرے ٹویٹاراٹیز (ٹویٹ کرنے والے) نے بھی طنز اور تشنیع کے کاری وار کیے ہیں۔

مگر صدر اوباما کی شخصیت اور ان کے آٹھ سالہ دورِ اقتدار کو سراہنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ان کے بڑے مداحوں میں مشہور صحافی اور براڈکاسٹر لیری کِنگ بھی شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: 'باراک اوباما کا الوداعی خطاب ولولہ انگیز تھا۔ آپ نے اپنی قوم کی خدمت اچھی طرح کی۔ جنابِ صدر آپ کا شکریہ۔'

لِیلی وائٹ نے اپنی ٹویٹ میں ان کی تصاویر پوسٹ کرکے لکھا: 'اوباما کے فوٹوگرافر نے ان کی بیس لاکھ تصاویر کھینچیں۔ مگر یہ دو تمام عمر یاد رہیں گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اقتدار جہاں انسان کو بہت سے اختیارات کا مالک بناتا ہے وہیں اوقات کانٹوں کی سیج بھی ثابت ہوتا ہے۔ نئی دوستیاں بنتی ہیں تو دشمنیاں بھی تعاقب میں آتی ہیں۔ کامیابیاں ملتی ہیں مگر حسرتیں بھی رہ جاتی ہیں۔

امریکی صدر کو دنیا کا طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا ہے۔ مگر جاتے جاتے شاید اوباما بھی غالب کے اس مصرعہ کا کوئی انگریزی ہم معنی اندر ہی اندر گنگنا رہے ہوں:

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

اسی بارے میں