لڑکیوں کی تصاویر کے ذریعے اسرائیلی فوجیوں کے فون تک رسائی

اسرائیل تصویر کے کاپی رائٹ IDF

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے نوجوان لڑکیوں کی تصاویر استعمال کر کے اسرائیلی فوجیوں کے سمارٹ فونز اور مائیکروفونز تک رسائی حاصل کی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حماس نے نوجوان لڑکیوں کی تصاویر اور عبرانی الفاظ استعمال کر کے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کے سمارٹ فونز کو ہیک کیا۔

تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کوئی اہم فوجی تفصیلات حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان نے اس حوالے سے بیان دینے سے انکار کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے افسر نے کہا کہ حماس نے زیادہ تر فیس بک پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر اسرائیلی فوجیوں کو پھنسایا۔

ان جعلی اکاؤنٹس میں سے ایک اکاؤنٹ میں کہا گیا 'ایک منٹ میں اپنی تصویر بھجوا رہی ہوں۔'

اس پیغام پر فوجی نے کہا 'ہا ہا اچھا۔' اور اس کے بعد ایک سنہری بالوں والی خوبرو لڑکی کی تصویر اس کو ملی جس نے سوئمنگ سوٹ پہن رکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ IDF

فوٹو بھیجنے کے بعد فوجی کو پیغام آیا کہ کیوں نا ہم ایک ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کر لیں تاکہ ہم آسانی سے ویڈیو چیٹ کر سکیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق لڑکیوں کے شکنجے میں پھنسنے والے زیادہ تر نچلے عہدوں کے فوجی تھے اور حماس کو غزہ میں اسرائیلی فوج کی موومنٹ، تعداد اور ہتھیاروں کے بارے میں معلومات درکار تھیں۔

اسرائیلی فوج کو اس ہیکنگ کا اس وقت معلوم چلا جب فوجیوں نے مشکوک آن لائن سرگرمیوں کو رپورٹ کیا۔

یاد رہے کہ 2001 میں ایک 16 سالہ اسرائیلی فوجی کو ایک فلسطینی عورت نےمقبوضہ مغربی کنارے میں بلایا جس نے اپنے آپ کو ایک امریکی سیاح کے طور پر متعارف کرایا اور مسلح فلسطینیوں نے اس کو مار ڈالا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں