امریکہ میں بغیر ویزا رہائش کی پالیسی ختم، کیوبا کا خیرمقدم

کیوبا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'ویٹ فُٹ، ڈرائی فُٹ' نامی پالیسی براک اوباما کے اعلان کے بعد فوراً ختم ہو گئی ہے

کیوبا کی حکومت نے امریکی صدر براک اوباما کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انھوں نے کیوبا کے شہریوں کو امریکہ پہنچنے پر ویزا کے بغیر ملک میں رہنے کی اجازت ختم کر دی ہے۔

کیوبن حکومت کے مطابق اس فیصلے کی وجہ سے ملک میں ’برین ڈرین‘ ہو رہا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں کیوبا کے شہری اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر امریکہ جانے کی کوششیں کرتے تھے۔ ہوانا میں حکومت نے کہا کہ اس پالیسی کو ختم کرنے سے دونوں ملکوں کے روابط کو اور تقویت ملے گی۔

کیوبا کاسترو اور کاسترو کیوبا تھے

'کیوبا سے تعلقات کی بحالی کا معاہدہ ختم کر سکتا ہوں'

کیوبا کی سفیر برائے امریکی معاملات جوزفینا ودال نے کہا کہ: ’لوگوں کی منتقلی سے نہ صرف کیوبا کی اپنی بلکہ امریکہ کی بھی سیکورٹی متاثر ہو رہی تھی۔ ان امتیازی قوانین کی وجہ سے انسانی سمگلنگ، فراڈ اور تشدد پر مبنی جرائم مرتکب ہو رہے تھے۔‘

صدر براک اوباما نے اپنے بیان میں کہا: ’فوری نفاذ کے ساتھ، کوئی بھی کیوبا کا شہری اگر امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتا ہے تو اگر وہ انسانی حقوق کے تحت مدد کا حقدار نہیں بنتا تو اس کو امریکی داخلہ قوانین کے مطابق ملک سے دربدر کر دیا جائے گا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس قدم کے لینے سے ہم کیوبا کے شہریوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کر رہے ہیں جیسا کہ دوسرے ممالک کے شہریوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ کیوبا کی حکومت نے بھی حامی بھری ہے کہ وہ نکالے جانے والے شہریوں کو ملک میں واپس لے گی۔‘

یاد رہے کہ امریکہ اور کیوبا نے سنہ2015 میں نصف صدی کے بعد آپس میں سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔

لیکن کیوبا کے عام شہریوں اور حکومت کے مخالفین نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ وہ حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے تاکہ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے شہریوں کے لیے مداوا کیا جا سکے۔

’ویٹ فُٹ، ڈرائی فُٹ‘ نامی پالیسی براک اوباما کے اعلان کے بعد فوراً ختم ہو گئی ہے۔ اس مرحلہ تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک نے کئی مہینوں تک گفتگو کی تھی تاکے یہ معاملہ طے پایا جا سکے اور کیوبا کی حکومت ان لوگوں کو واپس لینے کے لیے راضی ہو جائے جو امریکہ پہنچ چکے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دسمبر 2014 کے بعد سے تقریباً ایک لاکھ کیوبن شہری براستہ لاطینی امریکہ، وسطی امریکہ اور میکسیکو امریکہ منتقل ہو گئے

دسمبر 2014 میں امریکہ اور کیوبا نےاعلان کیا تھا کہ دونوں ملک آپس میں سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کریں گے جس کے بعد سے بڑی تعداد میں کیوبا کے شہریوں نے امریکہ جانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔

دسمبر 2014 کے بعد سے تقریباً ایک لاکھ کیوبن شہری براستہ لاطینی امریکہ، وسطی امریکہ اور میکسیکو امریکہ منتقل ہو گئے جس پر کیوبن حکومت اور امریکی حمایتی ملکوں نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کیوبا کے مابین دوبارہ شروع ہونے والے تعلقات پر تنقید کی تھی اور کہا کہ وہ صدارت سنبھالنے کے بعد ان سفارتی تعلقات کو پھر سے ختم کر سکتے ہیں۔ لیکن براک اوباما کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے تارکِ وطن کے حوالے سے سخت موقف کے موافق ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان معاشی روابط پر ابھی بھی پابندی ہے جبکہ کیوبن ایڈجسٹمنٹ ایکٹ ابھی لاگو ہے جس کے تحت کیوبا کے شہری امریکہ میں قانونی طور پر پہنچنے کے ایک سال بعد ملک کی مستقل شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں