موصل یونیورسٹی عراقی فوج کے کنٹرول میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراقی حکام کے مطابق یونیورسٹی کے علاقے سے ہتھیار ہنانے کے لیے کیمیائی اجزا برآمد ہوئے ہیں

عراق میں ریاستی ٹی وی چینل کا دعویٰ ہے کہ حکومتی افواج نے موصل میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے دوران شہر میں واقع ایک یونیورسٹی کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یونیورسٹی اور اس کے گرد علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارروائی ایک روز قبل شروع کی گئی تھی اور اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ اس یونیوسٹی میں موجود عمارتوں کو موصل میں اپنی بیس کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔

عراقی حکام کے مطابق یونیورسٹی سے ہتھیار ہنانے کے لیے کیمیائی اجزا بھی برآمد ہوئے ہیں۔

٭ موصل کا معرکہ: ’داعش صرف داڑھیاں ہیں‘

چند روز قبل ہی عراق میں حکومتی افواج کا کہنا تھا کہ وہ پہلی مرتبہ شہر کے اندر دریائے دجلہ کے کنارے پہنچ گئے ہیں۔

دریائے دجلہ شہر موصل کے درمیان سے گزرتا ہے۔ شہر کے مغربی حصہ پر ابھی بھی دولتِ اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔

عراق کی انسدادِ دہشت گردی کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ وہ دریا کے مشرقی کنارے پر ایک پل کی طرف موجود ہیں جسے دولتِ اسلامیہ نے نقصان پہنچایا ہے۔

عراق میں حکومتی افواج نے دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ پر گذشتہ سال اکتوبر میں دھاوا بولا تھا۔

افواج نے جنگجوؤں کو مشرق میں پیچھے دھکیلا۔ عراقی افواج کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی افواج نے پُل کے قریب تاریخی مقام پر دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ فورسز دونوں جانب سے پیش قدمی کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'پیش قدمی کرتے ہوئے تاریخی پہاڑوں کے قریب دولتِ اسلامیہ نے اُن کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔'

جنرل سعدی نے کہا کہ امریکہ اور اتحادی افواج کے جنگی جہازوں نے دولتِ اسلامیہ کے درجنوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔

دریائے دجلہ تک رسائی اُس وقت ممکن ہوئی جب حکومتی افواج نے رات بھر جاری رہنے والی لڑائی کے بعد المثنی ڈسٹرکٹ پر کنٹرول حاصل کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے جاری آپریشن میں اب تک موصل کا دو تہائی علاقہ حکومتی کنٹرول میں ہے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے دو سال قبل موصل پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد انھوں نے عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضے کرنا شروع کر دیے تھے۔

موصل کو حکومتی کنٹرول میں لینے کے آپریشن کی وجہ سے اب تک شہر سے ایک لاکھ افراد نے محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں