ٹرمپ سے الجھنے والے جان لیوس کے لیے سیاستدانوں اور فنکاروں کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 50 سال قبل مارچ مارٹن لوتھر کن کی قیادت میں آن واشنگٹن کے نام سے چلنے والے اس مہم کے وہ آخری زندہ رکن ہیں

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ الجھنے والے انسانی حقوق کے کارکن اور کانگرس کے رکن جان لیوس کی حمایت میں امریکی سیاستدان اور فنکار سامنے آئے ہیں۔

* ڈونلڈ ٹرمپ کون ہیں؟

لیوس کی جانب سے اس بیان پر کہ ٹرمپ صدارت کے اہل نہیں تھے ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ مسٹر لیوس اپنے حلقے پر زیادہ توجہ دیں۔

مسٹر لیوس 1960 کی دہائی میں شہری حقوق کے لیے ہونے والے مہم کے مرکزی رہنماؤں میں شامل تھے۔

50 سال قبل مارٹن لوتھر کنگ کی قیادت میں مارچ آن واشنگٹن کے نام سے چلنے والے اس مہم کے وہ آخری زندہ رکن ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

جان لیوس جو ڈیمو کریٹ ہیں انھبوں نے کہا تھا کہ وہ 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی استقبالیہ تقریب میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ وہ صدارت کے اہل ہی نہیں تھے۔

انہوں نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ روسیوں نے منتخب ہونے میں ان کی مدد کی۔ اور انھوں نے ہلیری کلنٹن کو تباہ کرنے میں مدد کی۔‘

سنیچر کو اپنے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا: ’ کانگرس کے رکن جان لیوس اپنے ضلعے کے مسائل حل کرنے پر زیادہ توجہ دیں جو انتہائی خوفناک حالت میں ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ انتخاب کے نتائج کے بارے میں جھوٹی شکایات کریں۔ یہ سب محض باتیں ہیں جب کا کوئی نیتجہ نہیں نکلے گا۔ افسوس۔‘

تاہم جان لیوس کے حامی فوراً ہی سامنے آئے ہیں۔

کیلیفورنیا کے سینیٹر کمالا ہیرس نے کہا ہے کہ ان سے ایسا سلوک کیا جانا صحیح نہیں ہے۔

’جان لیوس شہری حقوق کی تحریک میں ایک مثال ہیں جو بے خوف ہیں اور انھوں نے انصاف اور مساوات کے لیے کوششیں کیں۔ وہ اس سے بہتر سلوک کے مستحق ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

کئی ایک نے جان لیوس کی بہادری کی تعریف کی اور اس بات کو بھی اجاگر کیا یہ مباحثہ مارٹن لوتھر کنگ ڈے یعنی 16 جنوری کے دن کے قریب ہوا ہے۔

کئی لوگوں نے ان کی سنہ 1965 کی تصاویر شیئر کیں جن میں جان لیوس کے سر میں چوٹ آئی تھی۔ اس مارچ پر پولیس نے تشدد کیا تھا۔

ریپبلیکن سینیٹر بین سیسی نہ ٹویٹ کیا کہ ’باتیں دنیا بدل سکتی ہیں۔ ‘ تاہم انھوں نے استقبالی تقریب میں نہ جانے کے فیصلے کی مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا ’یہ ایک شخض کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ اقتدار کی پر امن منتقلی کا جشن ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption کئی لوگوں نے ان کی سنہ 1965 کی تصاویر شیئر کیں جس میں جان لیوس کے سر میں چوٹ آئی تھی

اسی بارے میں