امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے سنگین نتائج نکلیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
Image caption مشرق وسطی میں امن مذاکرات بحال کرنے کے لیے پیرس میں ستر ملکوں کی کانفرنس ہو رہی ہے

فرانس کے وزیر خارجہ ژان مارخ ایغو نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس (یروشلم) منتقل کیا تو اس کے انتہائی سنگین نتائج نکلیں گے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اتوار کو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات بحال کرنے کی سعی میں ستر ملکوں کے اجلاس کے موقع پر ایک فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کرنا آسان نہیں ہو گا۔

ایغو نے کہا کہ 'جب آپ امریکہ کے صدر ہوں تو آپ مختلف مسائل پر یکہ طرفہ اور ڈھٹائی پر مبنی موقف اختیار نہیں کر سکتے۔ آپ کو امن کے لیے زمین ہموار کرنا پڑتی ہے۔'

فلسطینی رہنما محمود عباس نے ہفتے کو خبردار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے اسرائیل کو اپنی غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے اگر انھوں نے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کیا تو امن کے عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق میں پانچ لاکھ افراد کی ہلاکتوں پر ایک شخص پیرس کانفرس کے موقعے پر پلے کارڈ اٹھائے ہوئے

امریکی سفارت خانے کو منتقل کرنے کا فیصلہ کئی دہائیوں سے چلی آ رہی امریکی پالیسی کے صریحاً برخلاف ہو گا۔ اس امریکی پالیسی کے تحت یروشلم جس کے عرب اکثریت والے مشرقی حصے پر اسرائیل نے سنہ انیس سو اڑسٹھ میں قبضہ کیا تھا اس کی حیثیت کا تعین کیا جانا فلسطینوں کے ساتھ امن مذاکرات میں کیا جائے گا۔

پیرس میں ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرس کی علامتی حیثیت ہے لیکن یہ ایک ایسے وقت منعقد ہو رہی ہے جب پانچ دن بعد نو منتخب امریکی صدر جن کا واضح جھکاؤ اسرائیل کی طرف ہے حلف اٹھانے والے ہیں۔

اسی بارے میں