اختیارات میں اضافہ، نیا قانون، ابتدائی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترک صدر رجب طیب اردوغان کو سنہ 2002 سے سیاسی طور پر غلبہ حاصل ہے

ترک پارلیمان نے صدر کے اختیارات بڑھانے سے متعلق نئے قانون کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔

رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے دوسرے مرحلے میں اس نئے قانون کے لیے ووٹنگ ہو گی اور منظوری کی صورت میں ریفرنڈم ہوگا۔

٭ترکی میں مزید 15 ہزار سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا گیا

٭ترکی میں جمہوریت اخبار کے نو صحافی زیرِ حراست

ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی مدد سے صدر اختیارات بڑھانا چاہتے ہیں۔ تاہم صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ نیا سسٹم فرانس اور امریکہ سے مماثل ہوگا۔

یاد رہے کہ نئے قانون میں صدر کو وزرا کو ہٹانے یا منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا اور صدر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ حق بھی حاصل کر لے گا کہ وہ ملک کے وزیراعظم کا عہدہ ہی ختم کر دے۔ وزیراعظم کے بجائے نائب صدر کا عہدہ موجود ہوگا۔

اتوار کو رات گئے بل کی حتمی شقوں پر ابتدائی منظوری دی گئی۔

رپبلکن پارٹی سی ایچ پی ان قانونی تبدیلیوں کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں سی ایچ پی کے رکن پارلیمان اور حکمراں جماعت اے کے پی کے اراکین کے درمیان اس وقت ہاتھا پائی دیکھنے کو ملی جب اپوزیشن جماعت نے ووٹنگ سیشن کی ریکارڈنگ کرنے کی کوشش کی۔

کرد نواز جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس جماعت کے بہت سے ایم پی اے کرد جنگجوؤں کی حمایت کرنے کے الزام میں جیل میں ہیں۔

ایچ ڈی پی کا کہنا ہے کہ یہ ووٹنگ متنازع ہے کیونکہ انھیں اس میں رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل نہیں۔

.

اسی بارے میں