استنبول نائٹ کلب کے حملہ آور کی 'افغانستان میں تربیت ہوئی'

استنبول تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کے بعد پولیس نے مشتبہ حملہ آور کی تصاویر نشر کر دی تھیں

استنبول کے گورنر نے کہا ہے کہ شہر کے نائٹ کلب رینا میں نئے سال کی تقریبات کے موقعے پر حملہ کرنے والے مبینہ شخص کی تربیت افغانستان میں ہوئی تھی۔

گورنر واصف شاہین نے بتایا کہ ازبکستان سے تعلق رکھنے والا مبینہ حملہ آور عبدالقادر ماشاریپوف گذشتہ سال سنہ 2016 میں جنوری کے مہینے میں ترکی آیا تھا۔

مسٹر شاہین کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور جائے وقوعہ پر ملنے والے انگلیوں کے نشانات ان کے فنگر پرنٹس سے مماثلت رکھتے ہیں۔

اس سے قبل ترک میڈیا نے خبر دی تھی کہ رینا کلب میں حملہ کر کے متعدد افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ عبدالقادر ماشاریپوف نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 39 افراد مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق انھیں استنبول کے ایسن یورت علاقے سے پکڑا گیا ہے۔

رائنا کلب کے حملے میں مقامی باشندوں کے علاوہ اسرائیل، فرانس، بیلجیئم تیونس، لبنان، انڈیا، اردن اور سعودی عرب کے شہری ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ اس نے کروایا ہے، اور کہا تھا کہ یہ ترکی کی شام میں فوجی مداخلت کے جواب میں کیا گیا ہے۔ 31 دسمبر اور یکم جنوری کی رات کو ایک حملہ آور ٹیکسی کے ذریعے کلب پہنچا اور گاڑی کی ڈکی سے لمبی نال والی بندوق نکال کر فائرنگ شروع کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گورنر واصف شاہین نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور عبدالقادر ماشاریپوف گذشتہ سال سنہ 2016 میں جنوری کے مہینے میں ترکی آیا تھا

استنبول سے بی سی سی کے نامہ نگار مارک لوون کہتے ہیں کہ اس گرفتاری سے ترک حکام کے سر سے بہت بھاری بوجھ اتر گیا ہو گا۔ تاہم ابھی ان کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ انٹیلی جنس کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے دہشت گردی کی اس لہر پر بند باندھنے کی کوشش کریں جس نے ترکی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق عبدالقادر نے وسطی ترکی کے شہر قونیہ میں ایک فلیٹ کرائے پر لیا تھا اور وہ وہاں ایک عورت، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ان کی بیوی ہیں، اور دو بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔

ترکی کے این ٹی وی نے کہا ہے کہ پولیس نے انھیں ایک قرغز دوست کے گھر سے گرفتار کیا۔ مسٹر شاہین کا کہنا ہے کہ سابقہ رپورٹ کے برخلاف ان کے ساتھ ان کا چار سالہ بیٹا نہیں تھا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ چھاپے میں پولیس کو ان کے پاس سے پستول گولی باروڈ اور غیرملکی کرنسی بھی ملی ہیں۔

ترک میڈیا پر ایک تصویر گردش کر رہی ہے جس میں ایک شخص نے خون آلود قمیص پہن رکھی ہے اور اس کے منھ پر زخموں کے نشان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عبدالقادر ماشاریپوف ازبکستان کے رہنے والے ہیں

ترک اخبار حریت کے مطابق تفتیش سے قبل ان کا طبی معائنہ کروایا جائے گا۔

ترکی شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ سے نبرد آزما ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کرد علیحدگی پسندوں پر بھی حملے کر رہا ہے۔

آبنائے باسفورس پر واقع رینا استنبول کے مشہور ترین نائٹ کلبوں میں سے ایک تھا۔ یہاں دنیا کے مختلف حصوں سے سیاحوں کے علاوہ گلوکار، اداکار اور کھلاڑی آیا کرتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں