فرینچ پولینیشیا کا پہلے ’تیرتے شہر‘ کا معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ THE SEASTEADING INSTITUTE

فرینچ پولینیشیا نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے حمایتیوں کو امید ہے کہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں خود مختار تیرتے ہوئے شہروں کے لیے راہ ہموار ہو سکے گی۔

چھوٹی سی ساحلی ریاست فرینچ پولینیشیا نے جمعے کو ساں فرانسسکو میں کیلیفورنیا سی سٹیڈنگ انسٹیٹیوٹ کے ساتھ ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔

اس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ انسٹیٹیوٹ کو تاہیتی جزیرے پر اس کے پہلے ’سی سٹیڈ‘ تیرتے ہوئے منصوبے کی ممکنہ اجازت دی جا سکے۔

تاہم مستقبل پر نظر رکھنے والے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے دنیا کے گرد ہموار تیراکی کے تجربے کے خواب کو پورا کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANDRAS GYORFI

سی سٹیڈنگ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رینڈولف ہینکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے نہیں لگتا ہے کہ آغاز میں یہ کوئی انتہائی خطرناک کام ہوگا۔‘

آغاز میں یہ فرینچ پولینیشیا کی حدود میں ہی ہوگا۔ اسے ساحل کے قریب اور سمندر سے محفوظ رکھا جائے گا۔

اس معاہدے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیرتی ہوئی آبادی کو حکومت سے کس قسم کی آزادی ملے گی۔

رینڈولف ہینکن کو ان کی تجاویز پیش کرنے کے لیے مدعو کیے جانے کے بعد پراعتماد ہیں کہ انھیں حکام کی جانب سے ’لی وے‘ یعنی اپنے انتظامات اور ’معاشی طور پر خصوصی سمندری علاقے ‘ کو خود چلانے کی اجازت دیں گے۔

اس معاہدے کو منظور کرنے کے لیے دو نکات واضح کیے گیے ہیں، کیا اس سے مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا اور کیا اس سے ماحول کو نقصان پہنچانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے بعد ہی انسٹیٹیوٹ ان کے مطابق ’غیر معمولی گورننگ فریم ورک‘ کا آغاز کر سکیں گے،اور اس کے لیے مقامی حکومت اور خاص طور پر فرانس جس کے تحت یہ علاقہ آتا ہے سے منظوری حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا۔

مسٹر ہینکن کے مطابق: ’میں پراعتماد ہوں لیکن اس میں کئے حصے آگے بڑھنے والے ہیں۔‘

انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ ابھی تک صرف کمپیوٹر پر بنائی گئی تصاویر ہی ہیں اور سرکاری کاموں رقم ادا کرنے کے لیے کورا کاغذ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا بنیادی مقصد تجربے کے لیے جگہ بنانا ہے نہ کہ آزاد خیالی کے لیے۔‘

مسٹر ہینکن اس بات پر بہ ضد ہیں کہ ’سمندر کے قریب رہنے سے سمندروں، سپر ہائی وے کا سرکاری میدان ہونے کا رویہ تبدیل ہوجائے گا۔‘

اسی بارے میں