وکی لیکس: صدر اوباما نے چیلسی میننگ کی سزا ختم کر دی

میننگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیلسی میننگ کو سنہ 2013 میں 35 سال کی سزا ملی تھی جو کہ 17 مئی 2045 کو ختم ہونا تھی

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے دورِ صدارت ختم ہونے سے صرف تین روز قبل غداری کے الزام میں قید انٹیلی جنس کی ماہر خاتون چیلسی میننگ کی سزا ختم کر دی ہے۔

یاد رہے کہ چیلسی میننگ کو ان سفارتی مراسلوں اور میدان جنگ کی رپورٹوں کو افشا کرنے کا مرتکب پایا گیا تھا جو ’وکی لیکس‘ نے شائع کی تھیں۔ اس بنیاد پر سنہ 2013 میں انھیں غداری کا مرتکب قرار دیا گیا تھا اور انھیں 35 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

غداری کی مرتکب چیلسی کو قیدِ تنہائی کی سزا

میں عورت ہوں: بریڈلی میننگ

یاد رہے کہ 29 سالہ چیلسی میننگ جنس تبدیل کرانے سے پہلے بریڈلی میننگ نام کے مرد کی حیثیت سے فوج کے لیے خفیہ معلومات کا تجزیہ کرنے کی ماہر کے طور پر کام کرتیں تھیں۔

چیلسی میننگ کو سنہ 2013 میں 35 سال کی سزا ملی تھی جو کہ 2045 کو ختم ہونا تھی تاہم اب انھیں 17 مئی کو رہا کر دیا جائے گا۔

وکی لیکس کے عنوان کے تحت سات لاکھ سے زائد دستاویزات اور وڈیوز افشا کر دی گئی تھیں جو کہ امریکی تاریخ میں خفیہ مواد کو منظر عام پر لانے کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔

حالیہ کچھ دنوں میں وہائٹ ہاؤس نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ چیلسی میننگ کی سزا ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

پچھلے سال چیلسی میننگ نے کینساس میں واقع فورٹ لیوین ورتھ جیل میں دو دفعہ خود کشی کی کوشش کی تھی۔ اس سے پہلے وہ کچھ عرصے تک وہ بھوک ہڑتال پر تھیں، تاہم فوج کی جانب سے'جینڈر ڈِسمورفیا‘ نامی مرض کے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے پر رضامندی کے بعد چیسلی میننگ نے ہڑتال ختم کر دی تھی۔

چیلسی میننگ کے علاوہ صدر اوباما نے 209 قیدیوں کی سزائیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ 64 کو مکمل معافی بھی دی ہے۔ صدر اوباما نے اپنے دورِحکومت میں اب تک 1385 سزائیں ختم کی ہیں جبکہ 212 کو مکمل معافی دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 29 سالہ چیلسی میننگ جنس تبدیل کرانے سے پہلے بریڈلی میننگ نام کے مرد کی حیثیت سے فوج سے منسلک تھیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چیلسی میننگ کی وکیل ڈیوڈ کُومبز نے کہا کہ سزا ختم ہونے کا اعلان ان کے مؤکل کے لیے بہت اطمینان کا باعث بنے گی۔

’یہ سزا ختم کرنا بہت بڑی بات ہے صدر اوباما نے بہت رحم دلی کا ثبوت دیا ہے۔ میں چیلسی اور اپنی جانب سے ان کا بہت شکر گزار ہوں۔‘

ایڈورڈ سنوڈن کی خبر افشاں کرنے والے صحافی گلین گرین والڈ نے بی بی سی سے اپنے خیالات کے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’چیلسی میننگ کو تو ایک دن بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

’انھوں نے بہت بہادری اور ہمت کے مظاہرہ دکھایا تھا جو کے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے مثال تھا۔‘

لیکن صدر اوباما کے ناقدین نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کے جان مکین نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک بہت بڑی غلطی ہے اور اس سے جاسوسی کے اور واقعات رونما ہوں گے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر پال ریان نے بھی اس فیصلے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک شرمناک فیصلہ ہے اور چیلسی میننگ نے امریکی عوام کی زندگی خطرے میں ڈالی تھی۔

امریکی قانون کے مطابق عام معافی سے نہ صرف سزا ختم ہو جاتی ہے بلکہ اس فرد کی سماجی آزادیاں بھی بحال ہو جاتی ہیں۔

سزا ختم ہونے کے فیصلے سے جیل سے آزادی تو ہو جاتی ہے لیکن سماجی آزادیاں اور کچھ قانونی پابندیاں رہتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں