’2016 تاریخ کا گرم ترین سال بن گیا‘

بحر منجمد شمالی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2016 میں قطبِ شمالی سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ گرمی دیکھی گئی

2016 کے درجۂ حرارت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سال 2015 کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا گرم ترین سال بن جائے گا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا اور برطانیہ کے محکمۂ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق 2016 کا درجۂ حرارت 2015 کے مقابلے پر 0.07 سیلسیئس زیادہ تھا۔ ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے؟

جاندار ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے سے قاصر

اگرچہ برطانوی محکمۂ موسمیات کا ریکارڈ کردہ اضافہ غلطی کی حدود کے اندر ہے، لیکن ناسا کا کہنا ہے کہ 2016 مسلسل تیسرا ایسا سال ہے جو ریکارڈ توڑتا چلا جا رہا ہے۔

سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس ایک سبب ایل نینیو نامی موسمیاتی مظہر ہے، تاہم اصل وجہ انسانوں کی جانب سے خارج کی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہے۔

مبصرین کو اس خبر پر زیادہ حیرت نہیں ہو گی، کیونکہ بہت سی علامات سے اس کا اندازہ پہلے ہی سے ہو گیا تھا۔ بعض سائنس دانوں نے مئی ہی میں کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ سال ریکارڈ توڑ دے گا۔

ناسا کے مطابق 1880 کے بعد سے جب سے درجۂ حرارت کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے، 2016 گرم ترین سال ہے۔

ناسا کے ڈاکٹر گیون شمٹ نے بی بی سی کو بتایا: 'اب تک گرم ترین سال کا ریکارڈ 2015 کے پاس تھا، لیکن 2016 نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگرچہ درجۂ حرارت میں یہ اضافہ بہت معمولی ہے، لیکن سال بہ سال تبدیلی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ اضافہ بھی بہت بڑا ہے۔'

انھوں نے کہا: 'یہ بہت واضح ریکارڈ ہے۔ اس کی وجہ بحر الکاہل میں ال نینیو ہے جس نے خاصی گرمی پیدا کی تھی۔ تاہم سب سے بڑی وجہ گرین ہاؤس گیسوں کی پیدا کردہ گرمی ہے۔'

قطبی علاقے بھی گرم

2016 میں قطبی علاقوں کا موسم بھی غیرمعمولی طور پر گرم رہا۔

ستمبر 2016 میں بحرِ منجمد شمالی اپنے رقبے کے لحاظ سے دوسرے کم ترین درجے تک آ گیا تھا۔ یہاں کی برف ہر سال موسمِ بہار اور گرما میں پگھل کر سکڑ جاتی ہے، جب کہ خزاں اور سرما میں دوبارہ پھیل جاتی ہے۔

عالمی موسمیاتی آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او)، جو مختلف ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے، اس کا بھی کہنا ہے کہ 2016 نے 0.07 درجے کے فرق سے سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہرین کے مطابق دنیا میں بڑھنے والی گرمی کی بڑی وجہ انسان کی خارج کردہ گرین ہاؤس گیسیں ہیں

گرم ترین صدی

21ویں صدی میں زمین کی گرمی میں تیزی آ گئی ہے۔ 2001 کے بعد سے تاریخ کے 16 گرم ترین سالوں میں سے 15 اسی صدی میں گزرے ہیں۔

اس مسلسل گرمی کا اثر پوری دنیا پر دیکھا جا رہا ہے۔ ڈبلیو ایم او کے پیٹیری تالاس کہتے ہیں: 'ہم نے بحرِ منجمد شمالی اور بحرِ منجمد جنوبی میں کم ترین برف کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔

'بحرِ منجمد شمالی عالمی اوسط کے مقابلے پر دوگنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ سمندری برف کے مستقل طور پر غائب ہو جانے سے دنیا کے دوسرے علاقوں میں موسم، آب و ہوا، اور سمندری پیٹرن تبدیل ہو رہے ہیں۔ ہمیں اس مستقل جمی رہنے والی برف کے پگھلنے سے خارج ہونے والی میتھین گیس پر بھی دھیان رکھنا چاہیے۔'

’ٹرمپ بھی نظر انداز نہیں کر سکتے‘

خدشہ ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے سیاسی حمایت میں کمی واقع ہو جائے گی۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ بہت بڑی غلطی ہو گی۔

یونیورسٹی کالج لنڈن کے پروفیسر مارک میسلن کہتے ہیں: 'ماحولیاتی تبدیلی 21ویں صدی کا ایک بڑا چیلنج ہے، اور یہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ تاریخ کا گرم ترین سال ہونے کا ریکارڈ ایسا ہے کہ اسے نومنتخب صدر ٹرمپ بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔'

ماہرین کے مطابق 2017 کے گرم ترین سال ہونے کا امکان نہیں ہے، تاہم توقع ہے کہ یہ پھر بھی پانچ گرم ترین برسوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں