امریکہ: وائٹ ہاؤس نئے صدر کے لیے کس طرح تیار کیا جاتا ہے؟

Image caption دن کے ٹھیک بارہ بجے تک وائٹ ہاؤس اوباما کا ہوگا اور روایت کے مطابق اس کے ایک منٹ پہلے تک بھی نئے صدر اس میں داخل نہیں ہوسکتے

واشنگٹن میں 20 جنوری کو جب صبح ہوگی تو صدر اوباما وائٹ ہاؤس کے پلنگ پر آنکھیں کھولیں گے لیکن جب رات ہوگی تو وہاں پر اوباما نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ سوئیں گے۔

دن کے ٹھیک بارہ بجے تک وائٹ ہاؤس اوباما کا ہوگا اور روایت کے مطابق اس کے ایک منٹ پہلے تک بھی نئے صدر اس میں داخل نہیں ہوسکتے۔

برسوں سے چلی آ رہی روایات کے مطابق اقتدار کی منتقلی کے لیے وائٹ ہاؤس کے ملازمین کے پاس صرف چھ گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔

صبح کے ساڑھے دس بجے کے آس پاس جب ڈونلڈ ٹرمپ اپنی افتتاحی تقریر کے لیے تیار ہو رہے ہوں گے تو اس وقت دو بڑے ٹرک وائٹ ہاؤس کے اندر آئیں گے اور الٹی طرف منہ کرکے کھڑے ہو جائیں گے۔

سو سے زائد ملازمین برق رفتاری کے ساتھ ایک ٹرک میں صدر اوباما کا بندھا ہوا سامان لوڈ کرنا شروع کریں گے جبکہ دوسرے ٹرک سے ڈونلڈ ٹرمپ کا سامان اتارا جانے لگے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خاص بات یہ کہ جب تک نئے صدر وائٹ ہاؤس میں داخل نھیں ہو جاتے اس وقت تک تمام ذمہ داریاں ان کی اپنی ہوتی ہیں

وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات مطابق فوجی چابکدستی کی مانند یہ دونوں کام ایک ساتھ ہی انجام دیے جاتے ہیں۔

اسی دوران دیواروں کی پینٹنگ ہو جاتی ہے، نئے قالین بچھ جاتے ہیں، شیشوں کی صفائی ہو جاتی ہے اور شام ہوتے ہوتے 132 کمروں پر مشتمل وائٹ ہاؤس نئے صدر اور ان کے خاندان کے استقبال کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

خاص بات یہ کہ جب تک نئے صدر وائٹ ہاؤس میں داخل نھیں ہو جاتے اس وقت تک تمام ذمہ داریاں ان کی اپنی ہوتی ہیں۔

براک اوباما جب 2009 میں شکاگو سے واشنگٹن آئے تھے تو اپنا پورا سامان انھیں اپنے خرچ پر لانا پڑا تھا۔ اور جب ایک بار ان کا سامان وائٹ ہاؤس کے سٹاف کے سپرد ہو جاتا ہے تو پھر اسے کیسے کھولنا ہے، کہاں رکھنا ہے یہ سب ملازمین کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔

عام طور سے تمام صدور یا پھر ان کی اہلیہ وائٹ ہاؤس کے اندر کی سجاوٹ میں اپنے حساب سے کچھ رد و بدل کرتی ہیں۔

Image caption برسوں سے چلی آ رہی روایات کے مطابق اقتدار کی منتقلی کے لیے وائٹ ہاؤس کے ملازمین کے پاس صرف چھ گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بیوی میلانيا ٹرمپ کے ساتھ چمک دمک والے اپنے پینٹ ہاؤس میں سنہرے پلیٹ والی چارپائیوں، مہنگے جھاڑ فانوس اور مہنگی سے مہنگی سنگتراشی سے سجے ہوئے مکان میں رہنے کے عادی ہیں۔

لیکن انھوں نے کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی سجاوٹ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کرنے جا رہے۔ ویسے بھی جب نئے صدر اندر داخل ہونے کے بعد ہی اپنی مناسبت سے وہ کوئی رد و بدل کروا سکتے ہیں۔

نیویارک میگزین کے مطابق میلانيا ٹرمپ ایک گلیم روم بنانا چاہتی ہیں جو ان کے میک اپ اور سجنے سنورنے کے لیے مخصوص ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عام طور پر بڑی تاریخی اہمیت کی حامل چیزوں میں تبدیلی نہیں کی جاتی ہے لیکن ماضی میں سابق صدور نے اپنی مناسبت سے چھوٹی موٹی تبدیلیاں کروائی ہیں

میگزین کے مطابق ان کے میک اپ میں سوا گھنٹے کا وقت لگتا ہے اور اس کمرے کی روشنی اور باقی سجاوٹ پر خاصی توجہ دی جائے گی۔

عام طور پر بڑی تاریخی اہمیت کی حامل چیزوں میں تبدیلی نہیں کی جاتی ہے لیکن ماضی میں سابق صدور نے اپنی مناسبت سے چھوٹی موٹی تبدیلیاں کروائی ہیں۔

صدر اوباما نے ایک ٹینس کورٹ کو باسکٹ بال کورٹ میں تبدیل کروایا تھا، فورڈ نے ایک بیرونی سوئمنگ پول بنوایا تھا تو کلنٹن نے سات یا آٹھ نشستوں والا ایک ہاٹ ٹب بنوایا تھا۔

20 جنوری کو شام گئے جب ٹرمپ اپنی تقریر، پھر پریڈ اور 'انوگرل بال' کہلائی جانے والی تقریب سے واپس آئیں گے تب تک ہلکا پھلكا کھانا بھی تیار ہو چکا ہو گا جو وائٹ ہاؤس کے باورچی کی پسند کا ہو گا۔

لیکن اگلی صبح سے پسند اور ناپسند صرف ایک ہی آدمی کی ہو گی اور وہ ہوں گے ڈونلڈ ٹرمپ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں