’مسلم ممالک روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے آئیں‘

روہنگیا تصویر کے کاپی رائٹ MUNIRUZZAMAN /AFP

ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار پر بین الاقوامی اقدامات کی قیادت مسلم ممالک کریں۔

انھوں نے یہ بات کوالالمپور میں اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

او آئی سی کا یہ ہنگلامی اجلاس میانمار کی مسلم اقلیت کو پیش آنے والے انسانی بحران پر بحث کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔

رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا کوئی ثبوت نہیں ملا: سرکاری کمیشن

روہنگیا مسلمانوں سے میانمار کو کیا مسئلہ ہے؟

میانمار کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے نجیب رزاق کا کہنا تھا: ’میانمار میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ زندہ بچ جانے والوں کو ناقابل بیان مظالم کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔‘

برما کی ریاست رخائن میں گذشتہ سال اکتوبر میں فوج کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد ایک اندازے کے مطابق تقریباً 65,000 روہنگیا مسلمان وہاں سے بھاگ چکے ہیں۔

حکام نے میانمار میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کے بعد یہ آپریشن شروع کیا تھا جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے اس میں متعدد افراد کو ہلاک اور روہنگیا مسلمانوں کے مکانات کو جلایا گیا تھا۔

میانمار کی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں نے بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود اپنے مکانات جلائے تھے۔

میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔

حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ ميانمار میں نسلوں سے رہ رہے ہیں. ریاست رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔

اسی بارے میں