’گیمبیا کے سابق صدر دوپہر تک اقتدار سے الگ ہو جائیں نہیں تو فوجی کارروائی ہو گی‘

گیمبیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیگال کی فوج کا شمار افریقہ کی بہترین تربیت یافتہ افواج میں ہوتا ہے

مغربی افریقہ کے ممالک نے گیمبیا کے سابق صدر یحییٰ جامع کو اقتدار سے الگ ہونے کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں فوجی مداخلت کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ مغربی افریقہ کے علاقائی اتحاد نے یحییٰ جامع کو جمعے کی دوپہر تک اقتدار چھوڑنے کی مہلت دیتے ہوئے ملک میں داخل ہونے والے سینیگال کے فوجی کو اپنی پیش قدمی روکنے کا کہا ہے۔

مغربی افریقہ کے ممالک گیمبیا کے حالیہ صدارتی انتخابات کے فاتح آداما بارو کی حمایت کر رہے ہیں۔

گیمبیا کے صدر نے اقتدار سے ہٹنے سے انکار کر دیا

علاقائی اتحاد ایکواس کے ترجمان مارسل الین ڈی سوزا نے کہا ہے کہ معاملات کے حل کے لیے گنی کے صدر الفا کندہ کی سربراہی میں آخری کوشش جمعے کی صبح کی جائے گی اور اگر یہ کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو اس صورت میں فوجی کارروائی اگلا قدم ہو گا۔

'اگر جمعے کی دوپہر تک یحییٰ جامع اقتدار سے الگ نہیں ہوتے ہیں تو اس صورت میں حمتی طور پر فوجی کارروائی کریں گے۔'

اس سے پہلے سینیگال کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے فوجی گیمبیا میں داخل ہو گئے ہیں جس کا مقصد حالیہ صدارتی انتخابات کے فاتح آداما بارو کو ملک کے نئے صدر کی حیثیت سے اقتدار کی منتقلی یقینی بنانا ہے۔

اس سے تھوڑی ہی دیر قبل بارو نے سینیگال میں واقع گیمبیا کے سفارت خانے میں عہدۂ صدارت کا حلف اٹھا لیا تھا۔

انھیں بین الاقوامی طور پر گیمبیا کی صدارت کا مسحق سمجھا جا رہا ہے لیکن گیمبیا کے سابق صدر یحییٰ جامع نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ انھیں پارلیمان کی حمایت حاصل ہے۔

مغربی افریقی ملکوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ جامع کو زبردستی معزول کر دیں گے۔ اقوامِ متحدہ بھی بارو کی حمایت کرتی ہے۔

جمعرات کو 15 رکنی سلامتی کونسل نے زور دیا ہے کہ یہ مسئلہ 'پہلے سیاسی طور پر حل کیا جائے۔'

خبررساں اداروں کے مطابق سینیگالی فوج کے ترجمان کرنل عبدو ایندیائے نے کہا کہ ان کے فوجی دستے جمعرات کی سہ پہر گیمبیا میں داخل ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر جامع 1994 میں ہونے والی بغاوت کے بعد سے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں

اے ایف پی کے مطابق نائجیریا نے اس سے قبل کہا تھا کہ 'جاسوسی کرنے کے لیے مسلح فضائیہ گیمبیا کی فضاؤں میں ہے۔'

نائجیریا کی فضائیہ کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا: 'ان کے پاس حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔'

مغربی افریقی فوجی طاقتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ گیمبیا میں منتقلیِ اقتدار کے لیے تیار ہیں۔

بارو نے ڈاکار میں واقع گیمبیا کے سفارت خانے میں حلف لیا۔ تقریبِ حلف برداری کے دوران انھوں نے گیمبیا کی فوج کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیرکوں ہیں میں رہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ 'جن فوجیوں کے پاس ہتھیار پائے گئے انھیں باغی تصور کیا جائے گا۔'

سینیگال میں مغربی ملکوں کے سُفرا، مغربی افریقہ کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی اور علاقائی معاشی تنظیم ایوکواس نے تقریب میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ اس دوران سینکڑوں گیمبیائی باشندے عمارت کے باہر موجود تھے۔

اسی دوران گیمبیا کی پارلیمان نے دو تہائی اکثریت سے یحییٰ جامع کی مدتِ صدارت میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ان کے پاس اب بھی ملک کا صدر کہلوائے جانے کا قانونی جواز موجود ہے۔

Image caption آداما باور نے گیمبیا کی فوج کو خبردار کیا کہ وہ بیرکوں تک محدود رہے

گیمبیا کے وزیرِ اطلاعات سِدی نیے نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا کہ جامع کا اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

مغربی افریقہ کا یہ ننھا سا ملک اپنے دلکش ساحلوں کی وجہ سے یورپی سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔ اسے تین طرف سے سینیگال نے گھیر رکھا ہے۔

بی بی سی کے افریقہ کے لیے سکیورٹی نامہ نگار ٹومی اولاڈیپو کہتے ہیں کہ گیمبیا کی کل فوج صرف ڈھائی ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہے اس لیے یہ تصور کرنا محال ہے کہ وہ سینیگال کا مقابلہ کر سکے۔

متعلقہ عنوانات