ٹرمپ کے پہلے ایگزیکٹو دستخط سے تبدیلی کا اشارہ

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے قدم کے طور پر ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کی حیثیت سے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے سابق صدر کی جانب سے ہیلتھ کيئر کے سلسلے میں کی جانے والی اصلاحات کو ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے نشانہ بنایا ہے۔

ان کے اعلان میں ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اوباما کيئر نامی منصوبے پر آنے والے مالی بوجھ کو کم کریں۔

جمعے کے اپنے افتتاحی خطاب میں انھوں نے 'امریکہ کو مقدم' رکھنے اور وسیع پیمانے پر پھیلے جرائم اور بند فیکٹریوں کے نتیجے میں 'امریکی تباہی کو ختم' کرنے کا عہد کیا۔

٭ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری: کب کیا ہوا؟

منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نسلی اور جنسی مساوات اور دیگر چیزوں کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے انھیں خطرہ لاحق ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نمائندہ بابرا پلیٹ اشر کے مطابق ٹرمپ نے عہد کیا ہے کہ وہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے جو کچھ کرسکتے ہیں وہ جلد از جلد کریں تاکہ وہ شروع میں ہی سبقت حاصل کرلیں نہیں تو پھر انھیں کسی بل کو منظور کروانے کے لیے کانگریس کے سخت مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ حلف اٹھا کر امریکہ کے 45ویں صدر بن گئے

اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا ’آج کے بعد سے ہر فیصلہ امریکی مفاد میں کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ آج ہم ایک نیا اعلان کر رہے ہیں جو دنیا کے ہر دارالحکومت میں سنا جائے گا۔ آج کے بعد سے صرف امریکہ پہلے، صرف امریکہ پہلے کی پالیسی چلے گی۔ تجارت، ٹیکس، امیگریشن اور خارجہ امور کے بارے میں ہر فیصلہ امریکی ملازمین اور امریکی خاندانوں کے مفاد میں کیا جائے گا۔'

انھوں نے اپنی تقریر کے دوران امریکہ کی تاریک اور شکستہ تصویر پیش کی اور متروک کارخانوں، جرائم اور ناکام تعلیمی نظام جیسے مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے عہد کیا کہ ان کے دورِ صدارت میں تبدیلی لائی جائے گی۔

انھوں نے کیپیٹل کی سیڑھیوں پر تقریر کرتے ہوئے کہا: 'یہ امریکی تباہی یہیں اور اب سے ختم ہوتی ہے۔'

ملک بھر سے ہزاروں لوگ ان کی تقریبِ حلف برداری دیکھنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی آئے ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا ’ہم نے کھربوں ڈالر بیرونِ ملک خرچ کر دیے اور امریکہ بنیادی ڈھانچہ شکست و ریخت کا شکار ہوتا رہا۔ ہم نے دوسرے ممالک کو امیر بنا دیا اور ہمارے اپنے ملک کی دولت، طاقت اور اعتماد ختم ہوتا چلا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حلف برداری کی تقریب میں ان کے خاندان کے افراد موجود تھے

پریس سیکریٹری شان سپائسر کے مطابق صدر بننے کے بعد ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے ارکان کے نام سینیٹ کو بھجوا دیے اور ایک اعلامیے پر دستخط کیے جس کے تحت قومی حب الوطنی کا دن منایا جائے گا۔

اس کے علاوہ انھوں نے ریٹائرڈ جنرل جیمز میٹس کے لیے ایک چھوٹ پر دستخط کیے جس کے تحت وہ وزیرِ دفاع بن سکیں گے۔

ٹرمپ نے کہا ’ہم مہذب دنیا کو انتہا پسند اسلام کے خلاف متحد کریں گے اور اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے۔‘

اپنی تقریر میں ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ 'فراموش شدہ لوگوں' کی آواز بنیں گے جنھیں واشنگٹن کے سیاست دان نظر انداز کرتے چلے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'آج وہ دن ہے جب لوگ اس ملک کے حکمران بن گئے ہیں۔ میں آخری سانس تک آپ سے مل کر لڑتا رہوں گا اور آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’امریکہ ایک بار پھر پہلے کی طرح جیتنا شروع کر دے گا، اور پہلے سے کہیں زیادہ جیتے گا۔‘

'ہم اپنی نوکریاں واپس لائیں گے، ہم اپنی سرحدیں واپس لائیں گے، ہم اپنی دولت اور خواب واپس لے کر آئیں گے۔'

انتظامیہ کی یہ تبدیلی صدارتی ویب سائٹوں میں بھی نظر آئی جن سے اوباما کی پالیسیاں ہٹا کر ٹرمپ کا ایجنڈا پوسٹ کر دیا گیا۔

تاہم بعض ناقدین نے اعتراض کیا ہے کہ ٹرمپ نے اس ایجنڈے میں شہری حقوق، ہم جنس پرستوں کے حقوق، صحت یا ماحولیاتی تبدیلی کا ذکر نہیں کیا۔

مظاہرے،احتجاج، توڑپھوڑ

اس دوران میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق انھوں نے ایک سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جو ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ترجمان لیفٹیننٹ شان کانبوئے نے کہا کہ اکثریت کو 'املاک کو نقصان پہنچانے' کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ڈیڑھ سو کے قریب سیاہ پوش مظاہرین نے واشنگٹن بھر میں مارچ کرتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور کوڑے دان گلیوں میں لڑھکا کر راستے بند کرنے کی کوشش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس دوران امریکہ کے مختلف شہروں میں ٹرمپ کی صدارت کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں

ہفتے کو خواتین کے ایک مظاہرے میں دو لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے۔

اس دوران نیویارک میں بھی مظاہرے ہوئے جن میں درجنوں مشاہیر سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ انھوں نے ٹرمپ کی صدارت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

اسی طرح کی ریلیاں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد کی جا رہی ہیں جبکہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں اس طرح کی ریلیوں کا منصوبہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں