سعودی عرب میں دہشت گردی میں 40 ممالک کے شہری ملوث: وزارت داخلہ

سعودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زیرحراست مشتبہ افراد میں 68 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں

سعودی عرب میں حکام کے مطابق ملک میں حالیہ چند برسوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں 40 ممالک کے شہری ملوث ہیں۔

سعودی گیزٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے تواصل پورٹل (شعبہ مواصلات) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی پانچ انٹیلی جنس جیلوں میں 5085 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں۔

سعودی عرب: سکیورٹی فورسز کا آپریشن ’‘

’حرکہ الیقین کے تانے بانے سعودی عرب سے ملتے ہیں‘

زیرحراست مشتبہ افراد میں 68 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے ان پر کس نوعیت کے مقدمات ہیں یا انھیں کس جرم کے شبہے میں زیرحراست رکھا گیا اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔

سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تین امریکی شہری اور فرانس، بیلجیئم اور کینیڈا سے ایک ایک شہری بھی زیرحراست ہیں۔

ان میں سے کچھ مشتبہ افراد خصوصی جرائم کی عدالت کی جانب سے اپیلیں مسترد ہونے کے بعد قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ کچھ کے مقدمات زیرسماعت ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر افراد سے بیورو آف انویسٹی گیشن اور پبلک پراسیکیوشن تفتیش کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق انٹیلی جنس جیلوں میں سب سے زیادہ سعودی شہری زیرحراست ہیں جن کی تعداد 4254 ہے۔

اس کے بعد 282 یمنی شہری اور 218 شامی شہری گرفتار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیان کے مطابق انٹیلی جنس جیلوں میں سب سے زیادہ سعودی شہری زیرحراست ہیں جن کی تعداد 4254 ہے

عرب ممالک میں 57 مصری، 29 سوڈانی، 21 فلسطینی، سات صومالی، پانچ عراقی، تین لبنانی، دو مراکشی، 19 اردنی، دو موریطانوی، دو اماراتی، دس بحرینی، دو قطری اور لیبیا اور الجزائر سے ایک ایک شہری زیر حراست ہیں۔

زیر حراست مشتبہ افراد میں ایک چینی، تین فلپینو، 19 انڈین، 68 پاکستانی، چھ ایرانی، سات افغان، چار ترک، چار بنگلہ دیشی اور ایک کرغستانی باشندہ شامل ہے۔

افریقی ممالک میں چاڈ سے 17، ایتھوپیا سے تین، نایجیریا سے چار، مالی سے دو اور انگولا، برکینا فاسو اور جنوبی افریقہ سے ایک ایک شہری شامل ہیں۔

خیال رہے تواصل کے ذریعے یہ افراد اپنی خاندان اور رشتے داروں سے آڈیو وژول رابطہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں