پاپولزم کے اضافے پر پوپ کا اظہار تشویش

پوپ فرانسس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پوپ فرانسس نے پوپولز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے

پوپ فرانسس نے پاپولزم میں اضافے کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی بحران کو ہونے دینے کے نتیجے میں ہٹلر جیسے آمر پیدا ہوتے ہیں۔

انھوں نے ہسپانوی زبان کے اخبار ال پائیس کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ باتیں اس وقت کہیں جب امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری تھی۔

پوپ نے غیر ملکیوں کو دور رکھنے کے لیے خاردار تاروں اور دیواروں کی مذمت کی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ نئے امریکی رہنما کے بارے میں کوئی فیصلہ دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ انھوں نے کہا: دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ کیا کرتے ہیں۔‘

ٹرمپ نے میکسیکو سے نقل مکانی کرنے والوں کے بارے میں جو بیان دیا تھا اور انھیں روکنے کے لیے جس دیوار کی بات کی تھی اس پر تنازع کھڑا ہو گيا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں یورپ اور امریکہ میں پاپولزم یا عوامیت پسندی میں اضافے پر کوئی تشویش ہے تو انھوں نے کہا: بحران سے خوف اور خطرے پیدا ہوتے ہیں۔ میرے خیال سے یورپی پاپولزم کی سب سے واضح مثال سنہ 1933 کا جرمنی ہے۔

جرمنی ٹوٹ چکا ہے۔ اسے اٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی شناخت تلاش کر سکے۔ اسے ایسے کسی رہنما کی ضرورت ہے جو اس کے وقار کو بحال کرسکے اور پھر ایسے میں اڈولف ہٹلر نامی ایک شخص ابھرتا ہے جو کہتا ہے میں کر سکتا ہوں، میں کر سکتا ہوں۔

اور سارا جرمنی ہٹلر کو ووٹ دیتا ہے۔ ہٹلر نے اقتدار کو چوری سے حاصل نہیں کیا۔ اس کے ملک کی عوام نے اسے ووٹ دیا اور پھر اس نے اپنے لوگوں کو برباد کر دیا۔

لیکن مسٹر ٹرمپ کے بارے میں پوپ نے کہا: انتظار کریں اور دیکھیں۔

انھوں نے مزید کہا: 'ہم اپنے دائرے سے آگے بڑھ کر لوگوں کے بارے میں قبل از وقت فیصلہ نہ کروں۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا کرتے ہیں کیسے کرتے ہیں پھر ہم اپنا خیال ظاہر کریں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں