ٹرمپ کو ’چیلنج‘ کرنے سے نہیں ڈروں گی: برطانوی وزیر اعظم

Image caption تھریسا مے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی رشتے کا مطلب یہ ہی تھا کہ دونوں جانب سے مشکل باتیں کی جانے کی چھوٹ ہے۔

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی ایسی بات کہی یا کوئی ایسا عمل کیا جو ان کی نظر میں ناقابلِ منظور ہوا تو وہ انھیں یہ بتانے سے ہچکچائیں گی نہیں۔

جمعے کے روز دونوں رہنماؤں کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات متوقع ہے۔

ٹریزا مے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی بین الاقوامی رہنما ہیں جو کہ امریکہ کا دورہ کر رہی ہیں۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سکیورٹی کے معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

ٹریزا مے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی رشتے کا مطلب یہ ہی تھا کہ دونوں جانب سے مشکل باتیں کی جانے کی چھوٹ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کا ان کا اہم ٹریک ریکارڈ ہے۔ امریکہ سمیت دنیا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’خواتین مارچ‘ کے لیے لاکھوں مظاہرین جمع ہو رہے ہیں۔

دنیا بھر میں 600 کے قریب ریلیاں ہوئی ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے پہلے دن نکالی گئیں۔

ان ریلیوں کا مقصد خواتین کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے جن کے بارے میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ نئی انتظامیہ کے زیراثر ان حقوق کو خطرہ لاحق ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر ماضی میں امریکہ اور برطانیہ کے مضبوط رشتے کو آگے بڑھانے کی توقع رکھتی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جو ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین کے بارے میں بیانات کو اس ملاقات میں زیرِ بحث لائیں گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خواتین کے بارے میں جو باتیں کی ہیں ان میں سے کچھ انتہائی ناقابلِ قبول ہیں اور ان میں سے کچھ کے لیے انھوں نے معافی بھی مانگی ہے۔‘

ٹریزا مےکا کہنا تھا کہ امریکی صدر ک ساتھ برابری پر ملاقات اور مذاکرات کر کے وہ خواتین کے کردار کے بارے میں ایک اہم پیغام دے رہی ہیں۔

اپنی جانب سے جدید غلامی اور گھریلو تشدد سے متعلق متعارف کروائے گئے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقتدار میں آ کر خواتین کے مفادات کا خیال رکھنے کا ان کا ریکارڈ موجود ہے۔

اسی بارے میں