بریگزٹ کا فیصلہ، اب آگے کیا ہو گا؟

بریگزٹ تصویر کے کاپی رائٹ PA

برطانوی سپریم کورٹ نے بریگزٹ کے بارے میں حکومتی اپیل مسترد کر دی ہے، جس کے تحت یورپی یونین چھوڑنے کے مذاکرات شروع کرنے کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری قرار دے دی گئی ہے۔

اس فیصلے کو وزیرِ اعظم ٹریسا مے کے لیے دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

٭ پارلیمان میں ووٹنگ کے بغیر بریگزٹ نہیں: سپریم کورٹ

اب وزیرِ اعظم کیا کریں گی اور اس فیصلے کا یورپی یونین چھوڑنے کے عمل پر کیا اثر پڑے گا؟

عدالت نے کیا کہا؟

برطانیہ اور ویلز کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ حکومتی دلیل مسترد کر دی ہے کہ اس کے پاس یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ کے بارے میں پارلیمان کی منظوری کے بغیر مذاکرات شروع کرنے کا اختیار ہے۔

11 ججوں نے تین کے مقابلے پر آٹھ ووٹوں کی اکثریت سے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جس میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ سال کے ریفرینڈم کے بعد حکومت کے لیے ازخود مذاکرات شروع کرنا غیرقانونی ہو گا۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمان کا کام ہے۔

آگے کیا ہو گا؟

اٹارنی جنرل جیریمی رائٹ نے کہا کہ حکومت کو عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرنا پڑے گا اور اسے نافذ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔'

بریگزٹ کے بارے میں سیکریٹری ڈیوڈ ڈیوس حکومت کے ردِعمل کی تفصیلات بعد میں بتائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

پارلیمان کی بات کیسے سنی جائے گی؟

حکومت کی جانب سے تفصیلات بعد میں آئیں گی، اور اطلاعات کے مطابق اس نے اپیل کی نامنظوری کی صورت میں پہلے ہی سے مسودۂ قانون تیار کر رکھا ہے۔

توقع ہے کہ نیا قانون مختصر ہو گا اور سماعت کے دوران حکومتی وکیل کو یہ کہتے سنا گیا کہ 'یک سطری' قانون پیش کیا جائے گا۔

ججوں نے یہ نہیں کہا کہ نیا قانون کیسا ہونا چاہیے۔

دارالامرا اور دارالعوام دونوں کو اس قانون کی منظوری دینا ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

اس عمل پر کتنا وقت لگے گا؟

پارلیمان اس قانون کو خصوصی ترجیح دے گی، جس کا ایجنڈا بڑی حد تک وزرا کنٹرول کرتے ہیں۔

توقع ہے کہ ٹوری پارٹی کے ارکان چاہیں گے کہ اسے جلد منظور کر دیا جائے، تاہم لبرل ڈیموکریٹ اور ایس این پی کے ارکان اس کے مختلف پہلوؤں پر بات کرنا اور مختلف ترامیم تجویز کرنا چاہیں گے۔

ایس این پی نے فیصلے کے بعد کہا کہ وہ 50 'سنجیدہ اور اہم' ترامیم پیش کریں گے۔

لیبر نے بھی کہا ہے کہ وہ قانون میں ترمیم کرنا چاہیں گے، تاہم وہ بریگزٹ کے عمل میں روڑے اٹکانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

بی بی سی کے پارلیمانی نامہ نگار مارک ڈارسی کہتے ہیں کہ قانون دارالعوام سے فروری میں، جب کہ مارچ میں دارالامرا سے منظور ہو سکتا ہے۔

ایسے ارکان بھی ہیں جن کی خواہش ہے کہ اس عمل کو تاخیر کا شکار کیا جائے، لیکن اکثریت ان ارکان کی ہے جو چاہتے ہیں کہ مئی 2020 سے پہلے پہلے برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو جائے۔

بریگزٹ ختم ہونے کا کوئی امکان ہے؟

ایسا ممکن ہے لیکن اس کا روبہ عمل ہونا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

بہت کم کنزرویٹیو ارکانِ پارلیمان آرٹیکل 50 کے خلاف ووٹ دیں گے۔ چونکہ دارالعوام میں کنزرویٹو جماعت کی اکثریت ہے، اس کا مطلب ہے کہ قانون وہاں سے آسانی سے منظور ہو جائے گا، خاص طور پر جب کہ لیبر پارٹی نے کہا ہے کہ وہ اس عمل میں روڑے نہیں اٹکائے گی۔

لِب ڈیم اور ایس این پی اس کے خلاف ضرور ہیں لیکن ان کی مخالفت سے بہت کم فرق پڑے گا۔

تاہم دارالامرا میں حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں جہاں کنزرویٹو جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔

مارک ڈارسی کہتے ہیں کہ کچھ ایسی 'چہ میگوئیاں' ہو رہی ہیں کہ آرٹیکل 50 کی مزاحمت کی جائے۔

تاہم بریگزٹ کی راہ مسدود کرنے سے عام انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس میں دارالامرا کے ارکان کا مستقبل بڑا موضوع بن کر سامنے آئے گا۔ اس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ حکومت بالآخر اسے منظور کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کے لیے اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟

سپریم کورٹ کے ججوں نے بریگزٹ کے بارے میں حکومتی موقف پر فیصلہ دیتے وقت سکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز سے متعلق چیلنج بھی سامنے رکھے۔

تاہم عدالت کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ان خطوں کی انتظامیہ کو آرٹیکل 50 کو ویٹو کرنے کا حق نہیں ہے۔

اس سے قبل حکومت نے کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کو مکمل طور پر ساتھ رکھا جائے گا۔

اسی بارے میں