اقوام متحدہ کی مغربی کنارے پر مکانات کی تعمیر کے اسرائیلی اعلان کی مذمت

اسرائیل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئے اعلان کردہ مکانات میں سے 100 کے قریب رام اللہ کے قریب بنائے جائیں گے

اقوامِ متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر 2500 نئے مکانات کی تعمیر کے اعلان کی مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے کہا کے ایسے یکطرفہ عمل سے امن کی راہ اور دو ریاستی حل میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتنیو گوئتریز کے ترجمان سٹیوفن ڈوجارک نے کہا ’سیکرٹری جنرل کے لیے دو ریاستی حل کے علاوہ اور کوئی پلان بھی نہیں ہے۔ ‘

نئی یہودی بستی،’دو ریاستی حل کے امکانات کم ہو جائیں گے‘

اقوام متحدہ نشستن و گفتن و برخاستن کلب ہے: ٹرمپ

اس تناظر میں اسرائیل کا یہ یکطرفہ عمل بہت پریشان کن ہے۔ دونوں فریقین کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے راضی ہوں تاکہ دو ریاستی حل تکمیل کو پہنچے جس میں دو ملک قائم ہو سکیں۔‘

واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر 2500 مکانات پر مشتمل مزید یہودی بستیاں تعمیر کریں گے۔ اسرائیلی وزیر دفاع ایوگدور لیبرمین اور وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ مکانات کی ضرورت کی وجہ سے کیا ہے۔

یہ بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں جبکہ اسرائیل اسے تسلیم نہیں کرتا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی تازہ کوشش ہے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکیٹوو کمیٹی کی رکن حنان اشراوی نے بھی اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

’اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ زمین کی چوری اور استعماریت پر یقین رکھتے ہیں، نہ کہ پر امن مذاکرات پر۔ اسرائیل کا یہ عمل اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔‘

حنان اشراوی نے مزید کہا کہ ’عالمی برادری کو چاہیے کے اسرایئل کو ایسا کرنے سے روکیں اور اس کے خلاف ایکشن لیا جائے ورنہ وہ مغربی کنارے کے تمام حصے پر قبضہ کر لے گا۔‘

سنہ 1967 میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے یہاں تعمیر ہونے والے 140 بستیوں میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اسرائیل کی جانب سے ایسا دوسرا اعلان ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف اشارہ دیا تھا کہ وہ ان یہودی بستوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ انھوں نے ان بستوں کے حامی اہلکار کو اسرائیل کے لیے اپنا سفیر بھی مقرر کیا ہے۔

نتن یاہو نے فلسطینی حکام کے ساتھ امن عمل کے حوالے سے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی۔ اس گفتگو کے دوران امریکی صدر نے انھیں امریکہ آنے کی دعوت دی۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی اور اپنی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔

سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے متعدد بار یہودی بستیوں کی تعمیر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور 23 دسمبر کو سکیورٹی کونسل میں قرارداد پر ووٹنگ کو ویٹو نہیں کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں