ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحکمِ ثانی شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر پابندی عائد کر دی ہے

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پناہ گزین پروگرام معطل کرتے ہوئے شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد 'انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں' کا امریکہ میں داخلہ روکنا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک وسیع ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت تمام پناہ گزینوں کے داخلے پر چار ماہ تک کے لیے پابندی عائد ہو گی، جبکہ خاص طور پر چھ مسلم ممالک سے امریکہ آنے والوں پر بھی تین ماہ کے لیے پابندی ہو گی۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے بارے میں ادارے یو این ایچ سی آر نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ اور استحصال سے بھاگنے والے لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا رہے۔

٭ کیا امریکی ویزا پالیسی مسلمان مخالف ہے؟

ادارے نے کہا کہ امریکہ میں پناہ گزینوں کی بحالی کا پروگرام بےحد اہم ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور اعلیٰ شخصیات نے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے ملالہ فنڈ کے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’میں انتہائی دل برداشتہ ہوں، صدر ٹرمپ نے آج ان بچوں، ماؤں اور والدین پر دروازے بند کر دیے ہیں جو تشدد اور جنگ کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ میں دل برداشتہ ہوں کیونکہ امریکہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کا خیر مقدم کرنے والی اپنی تاریخ سے منہ موڑ رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے آج ان بچوں، ماؤں اور والدین پر دروازے بند کر دیے ہیں جو تشدد اور جنگ کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے: ملالہ یوسفزئی

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ میں' انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں' کے داخلے کو روکنے کے لیے جانچ پڑتال کے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

پینٹاگون میں وزیر دفاع جمیز میٹس کی تقریب حلف برادری کے بعد صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو حکمنامے پر دستخط کیے جس کے تحت 'انتہا پسند اسلامی دہشت گردوں' کو ملک سے دور رکھنے کے لیے جانچ پڑتال کے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامے پر دستخط کے کئی گھنٹوں بعد اس کا متن سامنے آیا جس میں یہ اقدامات شامل ہیں:

  • امریکی پناہ گزینوں کے داخلے کا پروگرام 120 روز کے لیے معطل
  • جب تک بعض ’اہم تبدیلیاں نہ کی جائیں، شامی پناہ گزینوں پر پابندی
  • 90 روز تک عراق، شام اور ’باعث تشویش‘ علاقوں سے آنے والوں پر پابندی، اطلاعات کے مطابق ان ممالک میں ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں
  • مذہبی استحصال کا شکار افراد کی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے لیکن صرف ان لوگوں کی جو اپنے ممالک میں کسی اقلیتی مذہب کا حصہ ہوں
  • 2017 میں صرف 50 ہزار پناہ گزینوں کو داخلہ دیا جائے۔ یہ تعداد سابق صدر اوباما کے مقابلے میں نصف ہے

صدر ٹرمپ نے اس سخت جانچ پڑتال کی تفصیلات سے متعلق کچھ نہیں بتایا لیکن جمعے کو ایک ٹی وی انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ پناہ کے متلاشی شامی شہریوں میں عیسائیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ انھوں نے چھ مسلمان ممالک سے لوگوں کے امریکہ داخلے کو روکنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پینٹاگون میں منعقدہ ایک تقریب میں صدر ٹرمپ نے کہا: 'میں سخت جانچ پڑتال کے نئے اقدامات کر رہا ہوں تاکہ انتہا پسند اسلامی دہشت گردوں کو امریکہ سے دور رکھا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ صرف ان لوگوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے دیں جو ہمارے ملک کی حمایت کریں اور دل سے ہمارے لوگوں سے پیار کریں۔'

صدر ٹرمپ نے فوج کی تنظیمِ نو کے لیے ایک اور ایگزیکٹیو حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت نئے جہاز اور بحری جہاز، تیار کرنے کے منصوبے تیار کیے جائیں گے اور اس کے علاوہ امریکی فوج کو نئے وسائل، آلات فراہم کیے جائیں گے۔

اس سے پہلے بی بی سی نے ایگزیکٹیو آڈر کا جو ڈرافٹ حاصل کیا ہے اس کے مطابق صدارتی منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جس میں نامعلوم ممالک کو ویزے کے اجرا کو معطل کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس خیال کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ان کے ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

امیگریشن سے متعلق ماہرِ قانون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال سے ان ممالک میں شام، عراق، ایران، لبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن شامل ہیں جو کہ تمام مسلمان اکثریت کے حامل ملک ہیں۔

ان ممالک کے تارکینِ وطن سمیت ویزے کی درخواستیں دینے والےشہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے میں بہت مشکل ہو گی جبکہ پہلے ہی بہت سے ملکوں کے مکینوں کے لیے ویزے کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں