امریکی ہوائی اڈے پر پناہ گزین زیرِ حراست

تصویر کے کاپی رائٹ @NYDIAVELAZQUEZ

انسانی حقوق کی تنظیموں کے ایک گروہ نے نیویارک کی ایک عدالت میں ان پناہ گزینوں کو رہا کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے جنھیں جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر چھ مسلمان ممالک کے باشندوں کا امریکہ میں 90 دن تک داخلہ بند ہے۔

* صدر ٹرمپ نے شامی پناہ گزینوں پر امریکی سرحدیں بند کر دیں

* صدر ٹرمپ کے احکامات کے بعد گوگل نے عملہ واپس بلا لیا

اس حکم نامے پر عملدرآمد کا طریقۂ کار تاحال واضح نہیں ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس پابندی کے فوری نفاذ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پناہ گزین پروگرام معطل کرتے ہوئے شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد 'انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں' کا امریکہ میں داخلہ روکنا ہے۔

نیویارک میں دو عراقی پناہ گزینوں کو حرسات میں لیا گیا ہے جن میں سے ایک امریکی فوج کے ساتھ مترجم کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ لوگ جمعے کو ہوائی اڈے کے ٹرانسٹ حصے میں تھے جس وقت اس حکم نامے پر دستخط کیے گئے اور انہیں وہیں روک دیا گیا۔

اس مقدمے کو دائر کرنے والوں میں شامل گروہ ’دی امیریکن سول لبرٹیز یونین‘ بھی شامل ہے۔ وکلا مخلتف پروازوں سے متعلق معلومات حاصل کر رہے ہیں تاہم انہیں ہوائی اڈوں پر حراست میں لیے جانے والے پناہ گزینوں کی حتمی تعداد کا علم نہیں۔

سنیچر کو ایک یمنی اور متعدد عراقی مسافروں کو قاہرہ سے نیویارک آنے والی پرواز میں سوار نہیں ہونے دیا گیا، اگرچہ ان کے پاس امریکہ کا ویزہ بھی موجود تھا۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ’گرین کارڈ‘ یعنی امریکہ میں سکونت کا اجازت نامہ رکھنے والوں کو بھی پروازوں میں سوار ہونے سے روکا گیا ہے۔ تاہم حکم نامہ میں گرین کارڈ سے متعلق وضاحت سے کچھ نہیں لکھا گیا اس لیے ان کا معاملہ ابھی مبہم ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ’شدت پسند اسلامی دہشت گردی کو امریکہ سے باہر رکھنا ہے۔‘

لیکن انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ شامی پناہ گزینوں اور دہشت گردی میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں