ٹرمپ انتظامیہ مظاہروں کے باوجود حکم نامے پر قائم

نیویارک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیویارک کے جے ایف کے ہوائی اڈے کے باہر بڑی تعداد میں لوگوں نے مظاہرہ کیا

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس اقدام پر قائم ہیں جس کے تحت سات مسلمان اکثریتی ممالک سے پناہ گزینوں کی امریکی آمد پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اس حوالے سے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’ہمیں انتہائی جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ ابھی!‘

یاد رہے کہ سنیچر کے روز امریکہ کے شہر نیویارک کی ایک عدالت نے صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے پر عبوری طور پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامے کے بعد 109 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے تقریباً دو درجن مسافر تاحال حراست میں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب قدرے محفوظ پالیسیاں لاگو کر دی جائیں گی تو ان ممالک کے لیے ویزے پھر سے جاری کرنا شروع کر دیا جائے گا۔

ادھر 16 امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلوں نے صدر ٹرمپ کے حکم نامے کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب ہزاروں افراد امریکی ہوائی اڈوں کے باہر موجود ہیں اور اس اقدام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے حکم نامہ: عالمی سطح پر شدید رد عمل

امریکی ہوائی اڈے پر پناہ گزین زیرِ حراست

امریکی شہری آزادی کی تنظیم اے سی ایل یو نے سنیچر کے روز صدر کے حکم نامے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

اے سی ایل یو نے کہا کہ جج کے سٹے آرڈر سے ان لوگوں کی ملک بدری رک گئی ہے جو اس حکم نامے کی 'زد' میں آ گئے تھے۔

تنظیم کا اندازہ ہے کہ ایک سو سے دو سو تک لوگوں کو ہوائی اڈوں پر روک دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہفتے کے روز صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا: 'یہ اچھا کام کر رہا ہے۔ آپ اسے ہوائی اڈوں پر دیکھ رہے ہیں، آپ اسے ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔'

اس دوران ہزاروں لوگوں نے مختلف امریکی ریاستوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امیگریشن کے بارے میں حکم نامے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

اس حکم نامے کے تحت، جس پر انھوں نے جمعے کو دستخط کیے تھے، امریکہ کا پناہ گزینوں کا پروگرام معطل کر دیا گیا تھا اور عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، اور یمن کے شہریوں کی امریکہ آمد پر 90 دن کی پابندی لگا دی تھی۔

وہ لوگ جو اس دوران سفر کر رہے تھے، انھیں امریکہ آمد پر حراست میں لے لیا گیا تھا، چاہے ان کے پاس جائز ویزا اور دوسری دستاویزات ہی کیوں نہ ہوں۔

ہفتے کے روز صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’یہ اچھا کام کر رہا ہے۔ آپ اسے ہوائی اڈوں پر دیکھ رہے ہیں، آپ اسے ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔‘

جج این ڈونیلی کے فیصلے کے بعد ان لوگوں کی ملک بدری رک گئی ہے جن کے پاس پناہ گزینی کی منظور شدہ درخواستیں، منظور شدہ ویزا، یا امریکہ میں داخلے کے لیے درکار دوسری قانونی دستاویزات موجود تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER / ACLU
Image caption اے سی ایل یو نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی ہفتے میں عدالت سے شکست ہو گئی ہے

’ناقابلِ تلافی نقصان‘

ہنگامی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ لوگوں کو ’بڑے اور ناقابلِ تلافی نقصان‘ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

اتوار کی صبح ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل کریں گے تاہم صدر ٹرمپ کے حکم کو بھی نافذ کریں گے۔

یہ مقدمہ ہفتے کے روز نیویارک کے جے ایف کے ہوائی اڈے پر دو عراقیوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔

ان میں سے ایک عراق میں امریکی فوج میں کام کرتے ہیں جب کہ دوسرے امریکی فوج کی کنٹریکٹ ملازم ہیں۔

اب ان دونوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مقدمے کے اگلی سماعت دس فروری کو ہو گی۔

امیگرینٹس کے حقوق کی تنظیم آئی آر پروجیکٹ کے ڈپٹی لیگل ڈائریکٹر نے کہا کہ عدالت کے باہر جمع ایک ہجوم نے نعرے لگا کر اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

انھوں نے کہا کہ خدشہ تھا کہ بعض لوگوں کو ہفتے کے روز جہاز میں بٹھا کر امریکہ بدر کر دیا جائے گا۔

'مختصر الفاظ میں، جج نے بھانپ لیا کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور جو ہم چاہتے تھے وہ ہمیں دے دیا۔ اور وہ تھا کہ ٹرمپ کے اس حکم کی معطلی اور حکومت کو اجازت نہ دینا کہ ملک بھر میں جو بھی اس حکم کی زد میں آیا ہے، اسے نکال باہر کر دیا جائے۔'

انھوں نے ہجوم کو بتایا کہ جج نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ناموں کی فہرست فراہم کرے جنھیں حراست میں لیا گیا ہے۔

'ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر شخص کو قانونی مدد فراہم کی جائے اور اسے حراست سے نکال لیا جائے۔ اسے واپس خطرے میں نہیں بھیجا جائے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں