ٹرمپ اور پوتن کی دولتِ اسلامیہ پر بات چیت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ فون پر بات چیت تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کے تحت اہم پیش رفت ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے روسی ہم منصب ولادی میرپوتن سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے فون پر بات چیت کی ہے۔

ماسکو کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سمیت عالمی دہشت گرد تنظیموں اور شام میں دیگر انتہا پسند گروپوں کے خلاف لڑنے سے اتفاق کرتے ہوئے اسے اولین ترجیح قرار ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ فون پر بات چیت تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کے تحت ایک اہم پیش رفت ہے۔

کریملن کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چيت کی تفصیل جاری کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ بات چيت مثبت اور تعمیری تھی۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے، مشرق وسطیٰ، عرب اسرائیل تنازعے، دفاعی استحکام، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ، ایران کے جوہری پروگرام، شمالی اور جنوبی کوریا اور یوکرین کی صورت حال جیسے مسائل پر بات چیت کی۔

روس کا کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اہم خطرے، عالمی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں ان کی پہلی ترجیح ہوں گی۔

بیان کے مطابق: 'دونوں صدور نے شام میں دولت اسلامیہ سمیت دوسری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی میں حقیقی تال میل قائم کرنے پر بات چيت کی ہے۔'

روس نے اپنے بیان میں اس پر عائد امریکی پابندیوں سے متعلق کسی خاص بات کا ذکر نہیں کیا جس کے بارے میں پہلے ہی سے قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ لیکن اتنا ضرور کہا کیا کہ فریقین نے مشترکہ مفاد والے تجارتی رشتوں کی تعمیر پر زور دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روس شام میں بشار الاسد کے تمام مخالفین کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ کی سابق انتظامیہ اسد کے مخالفین میں سے بعض اعتدال پسند دھڑوں کی حمایت کرتا رہا ہے

روس شام میں بشار الاسد کے تمام مخالفین کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ کی سابق انتظامیہ اسد کے مخالفین میں سے بعض اعتدال پسند دھڑوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے بات چیت کی تفصیل جاری نہیں کی اور ایک مختصر بیان میں کہا کہ 'دونوں صدور نے بات چیت کے بعد اس امید کا اظہار کیا ہے کہ فریقین جلد ہی دہشت گردی کے خلاف اور دیگر باہمی مفاد کے مسائل کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔‘

دونوں نے مستقبل میں ایک ملاقات کرنے اور ایک دوسرے سے مستقل رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے سنیچر کے روز جاپان، جرمنی، فرانس اور آ‎سٹریلیا کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی ہے۔ انھوں نے جاپانی وزیراعظم شنزو آبے سے دس فروری کو پہلے سے طے شدہ ملاقات کے لیے دعوت بھی دی۔

روس کی پالیسیوں کے سخت مخالف رپبلکن سینیٹر جان میک کین نے ماسکو پر عائد پابندیوں کے ختم کرنے سے متعلق ٹرمپ کو خبردار کیا تھا۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'مجھے امید ہے کہ ٹرمپ اس سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیں گے اور اس طرح کے کسی بھی بلا سوجھ بوجھ کے کام کو مسترد کر دیں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر روس کے خلاف عائد پابندیوں کو قانون میں تبدیل کرنے کی کوشش کروں گا۔'

ایک اور رپبلکن سینیٹر راب پورٹمین نے بھی روس پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کے خلاف بیان دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں