یمن میں امریکی کارروائی: 14 شدت پسند، ایک امریکی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے پہلے یمن میں امریکہ نے متعدد خلاف فضائی حملے کیے ہیں

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی کمانڈوز نے وسطی یمن میں القاعدہ کے گڑھ پر ریڈ کی ہے جس میں 14 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا ہے۔

امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ایک امریکی فوجی زخمی بھی ہوا ہے۔

* یمن: ’قحط کا خطرہ، ہر دس منٹ بعد ایک بچے کی موت‘

* ’یمن میں جاری جنگ میں دس ہزار افراد ہلاک‘

امریکی فوج نے بیان میں کہا ہے کہ اس کارروائی کی منظوری صدر ٹرمپ نے دی تھی۔

امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ الباعدہ صوبے میں کی جانے والی اس کارروائی میں کئی اپاچی ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔

اس کارروائی میں القاعہ کے تین رہنما ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ کارروائی 45 منٹ جاری رہی جس میں شدت پسندوں اور امریکی کمانڈوز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ US Army

اس سے قبل مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں 41 شدت پسند اور 16 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الباعدہ صوبے میں ہونے والے اس حملے کی ابتدا ایک مکان پر کیے جانے والے فضائی حملے سے ہوئی۔ جس کے بعد ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کمانڈوز اترے اور حملہ کیا گیا۔

اطلاعات ہیں کہ یہاں عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال ایک مسجد اور قریبی مکانات میں جھڑپیں ہوئیں۔

بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں القاعدہ کا مقامی رہنما اور متعدد عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حملے کی ابتدا ایک مکان پر کیے جانے والے فضائی سے ہوئی

اس سے پہلے یمن میں امریکہ نے القاعدہ کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں لیکن اس طرح زمینی فوج بھیجنے سے متعلق کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق ایک مقامی قبائلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں القاعدہ سے منسلک تین قبائلی رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایک صوبائی اہلکار نے بتایا کے اپاچی ہیلی کاپٹرز نے ایک سکول، مسجد اور القاعدہ کے زیرِ استعمال طبی مرکز کو بھی نشانہ بنایا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں