یونان: پناہ گزینوں کی ہلاکت کے بعد امدادی اداروں کی تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بہت سے پناہ گزینوں نے کیمپوں میں ہونے والی حالیہ اموات کے خلاف دھرنا بھی دیا ہے

یونان کے جزیرے لیزبوز کے عارضی کیمپوں میں رہنے والے پناہ گزینوں کی ہلاکتوں پر عالمی امدادی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے۔

ان اداروں کا کہنا ہے کہ موریا میں واقع ایسے کیمپوں میں گنجائش سے زیادہ پناہ گزین مقیم ہیں جہاں خراب صورت حال کے پیش نظر سنگین خطرات کا خدشہ لاحق ہے۔ اس علاقے میں کم سے کم 3000 پناہ گزیں رہ رہے ہیں۔

پیر کے روز ایک نوجوان شخص اپنے ٹینٹ میں مردہ پایا گيا تھا جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔

22 سالہ ایک مصری اور 46 سال کا ایک شامی شخص، جو ایک ٹینٹ میں ساتھ رہتے تھے، کی بھی گذشتہ ہفتے موت ہوگئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ہیٹر سے نکلنے والا زہریلا دھواں ان کے اندر چلا گيا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption علاقے میں موسم بہت سرد ہے اور یہ پناہ گزين سردی سے بچنے کے لیے لکڑي جلاتے ہیں یا پھر ہیٹر استعمال کرتے ہیں اور ان کی ہلاکتوں کی ممکنہ وجہ کاربن مونواکسائڈ کا زہریلا مادہ ہوسکتا ہے

یونان کی پولیس ان ہلاکتوں کی تفتیش کر رہی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق علاقے میں موسم بہت سرد ہے اور یہ پناہ گزين سردی سے بچنے کے لیے لکڑیاں جلاتے ہیں یا پھر ہیٹر استعمال کرتے ہیں اور ان کی ہلاکتوں کی ممکنہ وجہ کاربن مونواکسائڈ کا زہریلا مادہ ہوسکتا ہے۔

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے یونانی ڈائریکٹر پنوس نواروزیدی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے کچھ تو کرنا پڑےگا۔ ’ہم اس طرح سے بلا وجہ زندگیوں کے ضیاع کو تو برداشت نہیں کر سکتے۔‘

ورلڈر چیئریٹی کے طبی عملے کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں خراب صورت حال پناہ گزینوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

تقریبا 6000 سے بھی زیادہ پناہ گزیں، جن میں بیشتر کا تعلق جنگ زدہ ممالک شام، عراق اور افغانستان جیسے ممالک سے ہے، یونان کے ان کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر کیمپوں میں گنجائش سے زیادہ لوگ رہتے ہیں، ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایسے بعض کیمپوں کی حالت تو بہت ہی غیر مستحکم اور نا گفتہ بہہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں