سعودی وزیرِ کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفری پابندی کے حکم کی حمایت

تیل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی وزیرِ تیل خالد ال فلیح

سعودی عرب کے وزیرِ تیل خالد الفلیح نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سات مسلم ممالک پر لگائے جانے والی سفری پابندی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی اور وہ علاقائی اور عالمی چیلینجز کا مل کر سامنا کریں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ مظاہروں کے باوجود حکم نامے پر قائم

خالد الفلیح نے مزید کہا کہ لوگ جن مشکلات کا سامنا پیش کر رہے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائیں گی۔

جب خالد الفلیح سے پوچھا گیا کہ اگر صدر ٹرمپ اپنے وعدے کہ مطابق سعودی عرب سے تیل خریدنا بند کر دیں تو کیا ہوگا، تو وزیرِ تیل نے جواب دیا کہ یہ دھمکی حقیقت میں نہیں بدلے گی۔

صدر ٹرمپ کے اقدامات کی تعریفیں کرتے ہوئے خالد الفلیح نے کہا کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کا فوسل فیول کی جانب مثبت نقطہ نظر رکھنے کو سراہتے ہیں اور کہا کہ یہ سابق صدر اوباما کے غیر حقییقی پالیسیوں سے بہتر ہے اور اس کی مدد سے امریکہ اور سعودی عرب کی معاشیات کو مشترکہ فائدہ ملے گا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وہ سعودی عرب کو اہم اتحادی تصور کرتے ہیں۔ پچھلے ہفتے جاری کیے جانے والی سفری پابندی میں سات مسلم ممالک شامل لیکن سعودی عرب، جس کے 15 شہری 11/9 واقع میں ملوث تھے، کا نام نہیں تھا۔

صدر بننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جس مسلم سربراہ سے سب سے پہلے فون پر بات کی تھی وہ سعودی بادشاہ سلمان تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں