گورسچ کی نامزدگی، اب کیا ہوگا؟

نیل گورسچ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے نویں جج کے لیے نیل گورسچ کو نامزد کیا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کے ججوں کے ریٹائرمنٹ کی کوئی حد نہیں ہے، اور بعض جج پچاس سال یا اس سے زیادہ عرصے تک اپنے عہدے پر فائز رہتے ہیں۔ کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے جسٹس گورسچ کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جج کا فیصلہ ایک صدی تک اثرانداز ہو سکتا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کے نو جج ہوتے ہیں اور ان کا انتخاب صدر کرتا ہے۔ گذشتہ برس جج اینٹونن سکیلیا کے انتقال کے بعد سے یہ عہدہ خالی تھا۔

اس وقت امریکی سپریم کورٹ میں چار جج ایسے ہیں جنھیں لبرل نظریات کے حامل سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ بقیہ چار جج قدامت پرست خیالات رکھتے ہیں۔ اگر گورسچ جج مقرر ہو جاتے ہیں تو سپریم کورٹ کا توازن قدامت پرستی کی جانب جھک جائے گا۔

اس نامزدگی کے مضمرات کے بارے میں امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی میں سکول آف گلوبل سٹڈیز کے ڈین عادل نجم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی سیاست میں اس فیصلے کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیوں کہ سپریم کورٹ کے جج تاحیات مقرر ہوتے ہیں، اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے جج سکیلیا ہی کی طرح کے خیالات کے حامل جج کو نامزد کیا ہے۔

'گہرے اثرات'

انھوں نے کہا کہ 'اسقاطِ حمل، ہم جنس پرستوں کے حقوق اور دوسرے متنازع معاملات میں اس نامزدگی کے گہرے اثرات پڑیں گے۔'

عادل نجم نے ایک اور نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اگر آپ اس وقت سپریم کورٹ کو دیکھیں تو شاید ڈونلڈ ٹرمپ کو دو یا شاید تین مزید جج نامزد کرنا پڑیں، جس سے وہ سپریم کورٹ کی شکل بدل کر رکھ سکتے ہیں۔'

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں سات اسلامی ملکوں کے شہریوں کے امریکہ سفر پر جو پابندی عائد کی ہے اس کے خلاف مختلف ریاستوں میں حکمِ امتناعی جاری ہو چکے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ لامحالہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جائے گا جہاں نیل گورسچ کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو گا۔

تاہم عادل نجم اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ شاید اس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے پہلے اپیلیٹ کورٹ ہی میں ہو جائے۔ اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچتا بھی ہے تو اس میں خاصا وقت لگے گا۔

امریکہ بہت سے نظریاتی معاملات میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہے، ایک طرف لبرل یا آزاد خیال ہیں تو دوسری جانب قدامت پسند۔ ان معاملات میں عوام کو طبی سہولیات کی وسیع تر فراہمی، اسقاطِ حمل، ہم جنس پرستوں کے حقوق، مذہبی آزادی، پسماندہ قوموں یا علاقوں کے لیے کوٹا سسٹم (جسے افرمیٹیو ایکشن کہا جاتا ہے)، گن کنٹرول، انتخابی حلقوں کی تقسیم، سزائے موت اور اس جیسے دوسرے ایشو شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ برس جسٹس سکیلیا (پہلی قطار میں بائیں سے دوسرے) کے انتقال کے بعد سے سپریم کورٹ میں ایک جج کی نشست خالی تھی

اگر ان میں سے کوئی معاملہ مقدمے کی صورت میں امریکہ کی اعلیٰ ترین عدالت کے پاس جاتا ہے تو اس صورتِ حال میں ججوں کی تعداد فیصلہ کن ثابت ہو گی کیوں کہ کسی بھی قانونی معاملے، یا ریاستوں اور وفاقی حکومت کے درمیان تنازعے کی صورت میں سپریم کورٹ ہی حتمی فیصلہ کن اتھارٹی ہے۔

واشنگٹن میں مقیم صحافی اور تجزیہ کار واجد علی سید نے بتایا کہ اس وقت امریکہ میں غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ بہت سے لوگوں کو خطرہ تھا کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد انتشار پھیل جائے گا، اور اس وقت وہی ہو رہا ہے۔

'ٹکراؤ کی کیفیت'

انھوں نے کہا کہ امریکہ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہاں ادارے مضبوط ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ اداروں کی بھی انتظامیہ کے ساتھ ٹکراؤ کی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے جس کی ایک مثال اٹارنی جنرل سیلی ییٹس کی برطرفی ہے جنھوں نے سات اسلامی ملکوں پر پابندی کے بعد کی صورتِ حال میں وفاقی حکومت کے دفاع سے انکار کر دیا تھا۔

واجد علی سید نے بتایا کہ امریکہ میں 'معاملات بہت سنگین ہو رہے ہیں اور ریاستوں اور وفاقی حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی کیفیت ہو رہی ہے۔'

ڈیموکریٹ پارٹی نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس نامزدگی کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے۔ اس عمل کو امریکی اصطلاح میں ’فلی بسٹر‘ کہا جاتا ہے جس کے تحت اسمبلی میں کسی مسودۂ قانون کی منظوری کے دوران مخالف جماعت کا کوئی رکن اتنی طویل بات شروع کر دیتا ہے جس سے کارروائی تعطل کا شکار ہو جاتی ہے۔

تاہم عادل نجم اور واجد علی سید دونوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹ ایسا کرنے میں ناکام رہیں گے اور نیل گورسچ سپریم کورٹ کے جج مقرر ہو جائیں گے۔

واحد پروٹیسٹنٹ

جسٹس گورسچ کا خاندان طویل عرصے سے رپبلکن اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ ہے۔ ان کی والدہ این گورسچ سابق امریکی صدر ریگن کے دور میں ماحولیاتی تحفظ کے ادارے ای پی اے کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں مجموعی طور پر پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کی واضح اکثریت ہے، لیکن سپریم کورٹ میں کوئی جج بھی پروٹیسٹنٹ نہیں ہے۔ اگر گورسچ کا تقرر ہو گیا تو وہ سپریم کورٹ کے واحد پروٹیسٹنٹ رکن ہوں گے۔

جج گورسچ شکار اور مچھلیاں پکڑنے کے شوقین ہیں۔ وہ جج ہونے کے ساتھ ساتھ بولڈر شہر میں یونیورسٹی آف کولوراڈو میں قانون کے پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں