رومانیہ میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جیلوں کے مسائل کا بہانہ کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کر رہے ہیں

رومانیہ کی حکومت کی جانب سے بدعنوانی کے جرائم میں قید درجنوں سرکاری عہدیداروں کی رہائی کے حکم نامے کے خلاف دارالحکومت بخاراسٹ میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کی شام حکومتی عمارتوں کے ہابر تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد جمع تھے اور اس کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔

چند مظاہرین نے پولیس پر فائر کریکر پھینکے جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سرکاری اہلکاروں کی رہائی کا حکم نامہ منگل کی رات کو جاری کیا گیا تھا۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے وزیراعظم سورن گریندیاں کی سربراہی میں نظریاتی طور پر بائیں بازو کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جیلوں میں بھیڑ کو کم کرنا ہے۔

تاہم ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی کے جرائم میں سزا یافتہ اپنے ساتھیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بدھ کے روز یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب یورپی یونین نے رومینیا کو بدعنوانی کے خلاف مہم میں پیچھے ہٹنے کے خلاف تنبیہ کی تھی۔

یورپی کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خلاف کوششوں کو آگے بڑھنا چاہیے نہ کہ پیچھے ہٹ جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رومانیہ میں ہونے والی پیش رفت پر انہیں شدید خدشات ہیں۔

اسی بارے میں