مزید یہودی بستیاں امن کے لیے مددگار نہیں ہوں گی: امریکہ

اسرائیل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر 2500 مکانات پر مشتمل مزید یہودی بستیاں تعمیر کرے گا۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے میں مددگار نہیں ہوں گی۔

یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پوزیشن سے مختلف ہے جس کے مطابق ان کو یہودی بستیوں کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

دسمبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جانب سے ان بستیوں کی تعمیر کو روکنے کے سلسلے میں ایک قرارداد پر تنقید کی تھی۔

ادھر جمعرات کو غربِ اردن میں اسرائیلی پولیس نے ایک غیر منظور شدہ پوسٹ سے مظاہرین کو زبرستی نکالا۔ عدالتی حکم نامے کے بعد امونا نامی یہ پوسٹ خالی کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر 2500 مکانات پر مشتمل مزید یہودی بستیاں تعمیر کرے گا۔ گذشتہ 20 سالوں میں بستیوں کی توسیع کا یہ پہلا اعلان ہے۔

وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ مکانات کی ضرورت کی وجہ سے کیا ہے۔

سنہ 1967 میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے یہاں تعمیر ہونے والے 140 بستیوں میں چھ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئے اعلان کردہ مکانات میں سے 100 کے قریب رام اللہ کے قریب بنائے جائیں گے

یہ بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں جبکہ اسرائیل اسے تسلیم نہیں کرتا۔

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اسرائیل کی جانب سے ایسا دوسرا اعلان ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف اشارہ دیا تھا کہ وہ ان یہودی بستوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ انھوں نے ان بستوں کے حامی اہلکار کو اسرائیل کے لیے اپنا سفیر بھی مقرر کیا ہے۔

تاہم جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگرچہ ہم یہ نہیں مانتے کہ بستیاں امن میں رکاوٹ ہیں، نئی بستیاں تعمیر کرنے یا موجودہ بستیوں کی موجودہ سرحد سے بعید توسیع امن کا ہدف حاصل کرنے میں مددگار نہ ہو۔‘

یاد رہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی اور اپنی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔

سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے متعدد بار یہودی بستیوں کی تعمیر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور 23 دسمبر کو سکیورٹی کونسل میں قرارداد پر ووٹنگ کو ویٹو نہیں کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں