شمالی کوریا کے حملے کا ’زبردست‘ جواب دیا جائے گا: امریکہ

جیمز میٹس اور ہان من کو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جیمز میٹس نے جمعرات کو اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب ہان من کو سے ملاقات کی

امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے کسی قسم کا استعمال کا 'موثر اور زبردست' جواب دیا جائے گا۔

میٹس جنوبی کوریا میں گفتگو کر رہے تھے، جس کے بعد وہ ٹوکیو روانہ ہو گئے۔

انھوں نے اس سال کے اواخر میں جنوبی کوریا میں امریکی دفاعی میزائل نظام نصب کرنے کے منصوبے کی بھی تصدیق کی۔

شمالی کوریا کو میزائل تجربے میں دوسری بار ناکامی

امریکہ کی جنوبی کوریا اور جاپان میں خاصی فوجی موجودگی ہے۔ جنوبی کوریا میں ساڑھے 28 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جن کے لیے جنوبی کوریا 90 کروڑ ڈالر ادا کرتا ہے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جنوبی کوریا اور جاپان دونوں خود اپنے دفاع کے اخراجات برداشت کریں۔

پینٹاگون کے مطابق میٹس نے اپنی موجودگی کے دوران جنوبی کوریا کو یقین دلایا کہ اس خطے کے تحفظ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا عزم ’آہنی‘ ہے۔

اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب ہان من کو سے ملاقات کے بعد میٹس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’امریکہ یا ہمارے اتحادیوں پر کسی بھی حملے کو شکست دی جائے گی، اور جوہری ہتھیاروں کے کسی بھی استعمال کا موثر اور زبردست جواب دیا جائے گا۔'

شمالی کوریا نے گذشتہ برس ایک اور جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا تھا، اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ ہتھیار امریکہ پر جوہری حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کو اس بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس کے پاس بین البراعظمی میزائل موجود ہیں جو امریکہ تک مار کر سکتے ہیں اور انھیں کسی بھی وقت داغا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی کوریا میں ساڑھے 28 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون ایونز کہتے ہیں کہ امریکی وزیرِ دفاع کا یہ بیان شمالی کوریا کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہو گا۔

ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ اس کے جوہری اسلحے کو محدود کرنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں یا نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے پر ابھی تک خاموش رہی ہے۔

اوباما انتظامیہ نے جنوبی کوریا کے ساتھ THAAD نامی دفاعی میزائل نظام کا معاہدہ کیا تھا۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کا واحد مقصد شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرے کا دفاع ہے، تاہم چین اور روس نے اس معاہدے پر نکتہ چینی کی ہے۔

بیجنگ کا کہنا ہے کہ یہ نظام 'کوریا کی دفاعی ضروریات سے کہیں بڑھ کر ہے۔' اسے خدشہ ہے کہ اس نظام کے ریڈار کی مدد سے امریکہ چینی فوج کی جاسوسی کر سکتا ہے۔

تاہم جمعرات کے روز جیمز میٹس نے چین کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ 'THAAD‘ سے شمالی کوریا کے علاوہ کسی ملک کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں