ٹرمپ چین کے دشمن کیوں؟ پانچ وجوہات

خاتون ہانگ کانگ میں امریکہ کے سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کر رہی ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کئی بار کہا: 'چین ہمارا دشمن ہے۔' لیکن اس مہم سے سالہاسال پہلے بھی وہ 2011 میں ٹوئٹر پر کہہ چکے ہیں: 'چین ہمارا دشمن ہے، وہ ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا: 'تجارتی میدان میں چینی دھوکےباز ہیں۔'

چین اور امریکہ اس وقت دنیا کی دو سب سے بڑی معاشی طاقتیں ہیں، اس لیے ان کے درمیان تنازع بقیہ دنیا کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔

تاہم ٹرمپ کے خیالات سے سبھی امریکی متفق نہیں ہیں۔

سپین کی یونیورسٹی آف نوارا کے پروفیسر مائیک روزنبرگ کہتے ہیں کہ چین اور امریکہ معاشی حریف ضرور ہیں، دشمن نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER DONALD TRUMP

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'امریکہ پچھلے 50 یا 60 برس سے جاپان، فلپائن اور دوسرے جنوبی ایشیائی ملکوں کی معیشت میں مدد دیتا رہا ہے، یہ وہ علاقہ جسے چین اپنا 'پڑوس' سمجھتا ہے۔'

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کی تائیوان کے صدر کو فون کال کو بھی چین نے پسند نہیں کیا۔

دوسری طرف چین امریکہ کی سینکڑوں کمپنیوں کے لیے مصنوعات تیار کرتا ہے، جہاں اسے سستی لیبر مل جاتی ہے۔

تاہم ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ اس سے امریکی ملازمین کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور یہی ان کی پہلی شکایت ہے۔

1 چین امریکی ملازمتیں چھین رہا ہے

2016 کے اوائل میں امریکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی نے ایک تجزیہ شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ نچلے درجے کی مزدوری والی ملازمتیں 'بڑے پیمانے پر چین منتقل ہو گئی ہیں۔'

تجزیے کے ایک مصنف ڈیوڈ آتھر تسلیم کرتے ہیں کہ اس تجارت سے روزگار پیدا بھی ہوئے ہیں، تاہم اس کے باوجود مسئلہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ وہ کہتے ہیں: '1999 سے 2011 تک چین سے امریکہ درآمدات پر امریکہ کو 24 لاکھ ملازمتوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگر کوئی چیز وال مارٹ میں دس فیصد سستی ہے تو اس سے لوگوں کی بےروزگاری کی تلافی نہیں ہو جاتی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2014 میں بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم سے ظاہر ہوا تھا کہ چینی فیکٹریوں میں ملازمین کو اکثر اوقات سخت حالاتِ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے

اس تناظر میں ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ ان کمپنیوں کو سزا دیں گے جو امریکہ سے نوکریاں باہر لے جا رہی ہیں۔

انھوں نے ستمبر میں کہا تھا: 'دیکھو چین ہمارے ملک کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ وہ چین کی تعمیر کے لیے ہمیں بینک کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔'

ٹرمپ نے یہ تک کہہ رکھا ہے کہ چینی مصنوعات پر 45 فیصد تک ڈیوٹی عائد کر دیں گے، تاہم ایسا کرنا آسان نہیں ہو گا کیوں کہ اس سے اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔

2 چین سستی برآمدات سے امریکہ کو 'ریپ' کر رہا ہے

انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین 'دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کا ذمہ دار ہے اور وہ سستی برآمدات سے امریکہ کو 'ریپ' کر رہا ہے۔

اس کے جواب میں چین کے وزیرِ مالیات نے بی بی سی کے کمال احمد کو بتایا: 'امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور چین دوسری بڑی معیشت ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بہت زیادہ معاشی تبادلہ اور تعاون پایا جاتا ہے، جن سے دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ ہوا ہے۔

'میں سمجھتا ہوں کہ امریکی نومنتخب صدر اور دونوں ملکوں کے عوام کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP / GETTY IMAGES

3 چین کرنسی میں جوڑتوڑ کر رہا ہے

ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران ایک اور الزام جو لگایا تھا وہ یہ تھا کہ 'چین دنیا میں کرنسی میں جوڑتوڑ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ چین جان بوجھ کر یوان کی قیمت کم رکھ رہا ہے تاکہ اس کی برآمدات کو فائدہ ہو۔

فوربز میگزین کی سوزن سو کہتی ہیں: 'یہ الزام ایک عرصے سے سیاسی تنازعے کا باعث رہا ہے، لیکن ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ نامینل شرحِ تبادلہ کے مقابلے پر اصل شرحِ مبادلہ زیادہ اہم ہے، جو لیبر، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی تیاری میں منعکس ہوتی ہے۔'

ماہرِ معیشت نیل گف نے لکھا ہے کہ'چین نے بین الاقوامی ذخائر کی مد کھربوں ڈالر خرچ کیے ہیں تاکہ اس کے سکے کو تقویت دی جا سکے۔'

ڈالر کی طرح کھلا ہونے کی بجائے چین اپنے سکے کی کڑی نگرانی کرتا ہے تاکہ اس کی قدر مستحکم رہے۔

4 دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا توازن امریکہ کے حق میں نہیں ہے

ٹرمپ کہتے ہیں کہ گلوبلائزیشن نے جہاں چین کو فائدہ پہنچایا ہے، وہیں اس سے امریکہ کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ تاہم نیویارکر میگزین کے صحافی ایڈم ڈیوڈسن کہتے ہیں: 'عالمی معیشت نے امریکہ کو سرمایہ کاری کے میدان میں زبردست فائدہ دیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP / GETTY IMAGES

سارا سو کہتی ہیں کہ امریکی صدر اس تجارتی توازن کو منفی سمجھتے ہیں، لیکن 'یہ اس بات کا عکاس ہے کہ امریکہ کی فی کس قومی پیداوار چین سے سات گنا زیادہ ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق امریکہ کی فی کس آمدنی 56 ہزار ڈالر، جب کہ چین کی آٹھ ہزار ڈالر ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ چین کی آبادی کے بڑے حصے ابھی بھی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

امریکہ کے مطابق 2016 میں امریکہ نے چین کو 104 ارب ڈالر کی درآمدات کیں، جب کہ اسی دوران چین کی امریکہ کو درآمدات 319 ارب ڈالر تھیں۔

5 پیٹر نوارو کا نظریہ

12 اکتوبر کو امریکہ کے معاشی اور مالیاتی امور کے صحافی ایڈم ڈیوڈسن نے لکھا تھا: 'اگر ٹرمپ کسی طرح جیت جائیں تو امریکہ کے سب سے طاقتور معاشی مشیر پیر نوارو ہوں گے۔'

آٹھ نومبر کو انتخابات میں فتح کے بعد 22 نومبر کو ٹرمپ نے نوارو کو نیشنل کونسل آف کامرس کا سربراہ مقرر کر دیا۔

نوارو نے چین کے بارے میں دو کتابیں لکھ رکھی ہیں، جن میں سے ایک کا نام 'چین کے ذریعے موت' ہے۔

اس کتاب پر بننے والی دستاویزی فلم میں کہا گیا ہے: 'اپنے خاندان کے تحفظ میں امریکہ کو مدد دینے کے لیے چینی مصنوعات نہ خریدیں۔'

مئی میں نوارو نے کہا تھا کہ 'چین کا انہدام قریب ہے،' اور انھوں نے چین پر الزام لگایا تھا کہ وہ اپنی درآمدات کو غیرقانونی طور پر سبسڈی دے رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین انٹیلیکچوئل پراپرٹی چراتا ہے اور اپنے ملازمین کا استحصال کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں