امریکہ میں داخلے پر پابندی کی فہرست میں اضافے کا ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤس

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترجمان کے مطابق ایگزیکٹیو آڈر میں شامل ممالک امریکی حکام کو وہ معلوم فراہم نہیں کر رہے تھے جو یہاں کے شہریوں کو امریکہ سفر کرنے کے لیے امریکی حکام طلب کر رہے تھے

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے پاکستانی شہریوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں مزید ممالک کو شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ'اس حوالے سے بہت ساری افواہیں ہیں' اور اس حوالے سے ’جلد کچھ ہونے والا ہے ان کے علم میں نہیں ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے شامی پناہ گزینوں پر امریکی سرحدیں بند کر دیں

مسلمانوں کے مسائل پر بات کوئی نہیں کر رہا

پناہ گزینوں پر پابندی کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے

ترجمان کے مطابق ایگزیکیٹو آرڈر میں شامل ممالک امریکی حکام کو وہ معلومات فراہم نہیں کر رہے تھے جو یہاں کے شہریوں کو امریکہ سفر کرنے کے لیے امریکی حکام طلب کر رہے تھے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک جیسے کہ افغانستان، پاکستان اور لبنان میں حکام مطلوبہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس میں تبدیلی ہوتی ہے تو ان ممالک یا دیگر ممالک کو فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ مسلمان اکثریتی ملک پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جن کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی تاہم اس حوالے سے پاکستانی شہریوں میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ جلد ہی یہ پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹیو آڈر کے مطابق شامی پناہ گزینوں کے داخلے غیرمعینہ مدت کے لیے پابندی ہے

امان سلمان نیویارک کے علاقے لونگ آئی لینڈ میں چھوٹے پیمانے پر ایک ٹریول ایجنسی چلاتے ہیں اور ان کے بیشتر صارفین پاکستانی نژاد شہری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جمعے سے ایگزیکیٹو آڈر کے بعد انھیں بیشتر کالز ٹکٹ منسوخ کرنے کے لیے موصول ہوئی ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ 'گرین کارڈ رکھنے والے کم از کم 95 فیصد صارفین جنھوں نے کئی ماہ پہلے سے پاکستان کی ٹکٹیں بک کروا رکھی تھیں منسوخ کروا چکے ہیں۔'

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکیٹو آڈر کے مطابق شامی پناہ گزینوں کے داخلے غیرمعینہ مدت کے لیے پابندی ہے جبکہ عراق، شام، ایران، سوڈان، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے تمام شہریوں کے داخلے پر بھی 90 دن کی پابندی عائد ہے۔

امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان کے مطابق اس پابندی کا اطلاق گرین کارڈ رکھنے والے شہریوں پر نہیں ہے لیکن اس حوالے سے پھر بھی ابہام پایا جاتا ہے اور ہوائی اڈوں پر اس آرڈر کے اطلاق کے بارے میں بے ضابطگیوں کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔

ویزا کی یہ پابندی 90 دن کے لیے ہے تاہم انتظامی اہلکاروں نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ اس کو دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ہو سکتا ہے اس میں مزید ممالک شامل کیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان کے مطابق اس پابندی کا اطلاق گرین کارڈ رکھنے والے شہریوں پر نہیں ہے

خیال رہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ہے تاہم حالیہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے مابین عدم اعتماد کی فضا میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی کانگریس میں بہت سے ارکان خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے والے عسکری گروہوں کی پاکستان کی مبینہ حمایت پر اس پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

امریکہ کے نئے سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کا بھی کہنا تھا کہ امریکہ کو دنیا کے واحد جوہری طاقت کے حامل مسلم ملک کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے۔

کچھ ماہرین کے خیال میں یہ ایک اشارہ ہے کہ اگر اس فہرست میں اگر مزید ممالک بھی شامل کیے گئے تو پاکستان اس میں شامل نہیں ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں