پہلی عالمی جنگ کے دوران آدھی ملاقاتیں
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہندوستانی سپاہیوں کو گھر سے آئے خطوط کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا

تصویر کے کاپی رائٹ IWM
Image caption سینسر آفس میں خطوں کی پڑتال

آج سے ایک صدی پہلے دنیا پر پہلی عالمی جنگ کی گھٹائیں گرج چمک کے ساتھ برس رہی تھیں۔ 1914 سے 1918 تک جاری رہنے والی اس جنگ کے ساڑھے چھ کروڑ سپاہیوں میں سے تقریباً تیرہ لاکھ کا تعلق متحدہ ہندوستان سے تھا۔ کم سے کم چوہتر ہزار ہندوستانی میدان جنگ میں کام آئے۔ گھر سے ہزاروں میل دور محاذ جنگ پر نہ تو ٹیلی فون تھا اور نہ ہی ای میل اور مسیجنگ سروس ایجاد ہوئی تھی۔ ان دنوں گھروالوں کی خیریت جاننے اور اپنی خیریت بتانے کا واحد ذریعہ خط ہی تھے۔ پانچ برس طویل جنگ کے دوران لاکھوں خط آئے اور گئے۔ تقریباً سو برس قبل ان سپاہیوں اور ان کے گھر والوں کی طبعی اور نفسیاتی کیفیت کی عکاسی کرتے چند منتخب خطوں سے اقتباس پیش کر رہے ہیں عمر آفریدی