جب ایک مریض کو ڈسچارج ہونے میں 508 دن لگ گئے

مریض کا ایکسرے تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

بعض مریضوں کو ہسپتالوں سے ڈسچارج ہونے میں تھوڑا بہت وقت لگ ہی جاتا ہے، تاہم اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ سکاٹ لینڈ میں بعض مریضوں کو اس عمل میں ایک سال سے زائد کا عرصہ لگ گیا، حالانکہ طبی طور پر وہ گھر جانے کے لیے تیار تھے۔

سکاٹ لینڈ کی سوشل لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ معلومات کے حق کی درخواست کے تحت حاصل شدہ معلومات کے مطابق ڈمفری اینڈ گیلووے کے ایک مریض کو 508 دن تک ہسپتال میں ڈسچارج ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔

فائف اور ہائی لینڈ میں بھی بعض مریضوں کو ہسپتال سے نکلتے نکلتے ایک سال سے زیادہ وقت لگ گیا۔

اس کے علاوہ آئرشائر، گریمپین، گریٹر گلاسگو، شیٹ لینڈ، لینارکشائر اور ویسٹرن آئلز میں مریضوں کو چھ ماہ سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔

بعض جگہوں پر انتظار کی وجہ یہ تھی کہ مریضوں کو نگہداشت کے مراکز یا سوشل کیئر سپورٹ کی طرف سے ان کے گھروں پر نگہداشت کی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں۔ دوسرے اس لیے انتظار کرتے رہ گئے کہ انھیں کے کچھ ٹیسٹ ابھی باقی تھے۔

'ناقابلِ قبول'

لبرل ڈیموکریٹس کے ترجمان ایلکس کول ہیملٹن نے کہا: 'ہم ان مریضوں کے بارے میں کیا کہیں جو 500 سے زائد راتوں سے ہسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں کیوں کہ شاید ایسا طبی عملہ نہیں مل پا رہا جو ان کے گھر معائنے کے لیے جا سکے، یا پھر کسی کیئر ہوم میں جگہ ہی خالی نہیں۔'

انھوں نے اس صورتِ حال کو 'ناقابلِ قبول' بتایا۔

سکاٹ لینڈ کی حکومت کے ترجمان نے کہا: 'بستر خالی کرنے کی تاخیر میں 2015 کے مقابلے پر 2016 میں 5.1 فیصد کمی آئی ہے، حالانکہ انگلینڈ میں اس میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'ایک دن غیرضروری تاخیر بھی بہت زیادہ ہے اور ہمارا عزم ہے کہ مربوط سوشل کیئر نظام کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکے۔'

اسی بارے میں