ڈی این اے کی مدد سے ملزم پکڑا گیا

کرینا تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک خاتون کے جسم پر موجود ڈی این اے کی مدد سے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ انھوں نے ایک خاتون کو ریپ کے بعد قتل کیا تھا۔

30 سالہ کرینا ویٹرانو نیویارک کے علاقے کوینز میں اپنے گھر کے قریب اکیلے جاگنگ کرتے ہوئے قتل کر دی گئی تھیں۔

تفتیش کاروں کو ان کے ناخنوں کے نیچے موجود ڈی این اے کا کسی سے میچ نہیں مل پا رہا تھا۔ آخر ہنگامی سروس 911 کو کیے جانے والی فون کالز کی مدد سے پولیس نے 20 سالہ چینل لیوس کا پتہ چلا لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ لیوس کا ڈی این اے مقتولہ کے بدن پر موجود ڈی این اے سے مل گیا ہے۔

نیویارک پولیس کے سراغ رسانوں کے سربراہ رابرٹ بوئس نے کہا: 'یاد رکھیں کہ کرینا نے ہمیں ملزم کی شناخت میں مدد دی ہے۔ ان کے ناخنوں کے نیچے اس شخص کا ڈی این اے تھا۔ اس کے علاوہ ان کی پیٹھ اور سیل فون پر بھی اس کا ڈی این اے ملا ہے۔'

کرینا سپیچ تھیراپسٹ تھیں اور انھیں تنہا جاگنگ کرنے کے دوران پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، پھر گلا گھونٹ کر مار ڈالا گیا۔

عام طور پر کرینا کے والد ان کے ساتھ جاگنگ کیا کرتے تھے، لیکن اس دن وہ زخمی ہونے کی وجہ سے اپنی بیٹی کا ساتھ نہیں دے سکے تھے۔

اتوار کے روز پولیس نے کہا کہ انھیں ملزم کا سراغ جائے واردات کے آس پاس سے 911 کو کی جانے والی فون کالز کی مدد سے ملا۔

کال کرنے والے ایک شخص نے ملزم کو مشکوک حرکتیں کرتے دیکھا تھا۔ چینل لیوس کو بدھ کے روز گرفتار کر کے ان کے ڈی این اے کا نمونہ حاصل کر لیا گیا۔

لیوس کے افرادِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بڑے 'عاجز' انسان ہیں اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے کے خواہش مند تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں