لندن: برطانوی پولیس نے پی آئی اے کے طیارے سے ایک شخص گرفتار کر لیا

پی آئی اے کی پرواز تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سٹینسٹڈ کے ہوائی اڈے پر طیارہ اترنے کے بعد اس میں برطانوی پولیس داخل ہوئی

برطانوی حکام کے مطابق لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں لندن کے سٹینسٹڈ ہوائی اڈے پر اتاری جانے والی پی آئی اے کی ایک پرواز پر سوار ایک مسافر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پی کے 757 نامی یہ پرواز لاہور سے لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوئی تھی تاہم برطانوی حدود میں داخلے کے بعد اسے دو ٹائیفون جیٹ طیاروں نے اپنی نگرانی میں لے لیا اور اس کا رخ سٹینسٹڈ ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔

پی آئی اے کے بارے میں پانچ غلط فہمیاں

ایسیکس پولیس کے مطابق لندن میٹروپولیٹن پولیس کو مطلوب ایک شخص اس پرواز پر سوار تھا جسے طیارہ اترنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ایک 52 سالہ شخص کو برطانیہ میں مالی بدعنوانی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے اور اسے لندن پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔

پی آئی اے کا کہنا ہے کہ تمام مسافروں کو ’بسوں‘ کے ذریعے لندن لے جایا گیا ہے۔

اس سے قبل ایئربس 330 طیارے کا رخ موڑے جانے کے بارے میں پولیس اور پی آئی اے کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے تھے۔

پی آئی اے نے اس واقعے کے بارے میں جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ طیارے کا رخ برطانوی حکام کو 'ایک گمنام فون کال پر مبہم سکیورٹی خدشے کی اطلاع' ملنے کے بعد موڑا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تاہم برطانوی کاؤنٹی ایسکس کی پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر کہا گیا کہ رخ موڑنے کی وجہ طیارے پر سوار ایک مسافر کی ہنگامہ آرائی ہے۔

پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'دوپہر تین بجے کے قریب برطانوی فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے ہیتھرو ایئرپورٹ کی جانب جانے والے ایک طیارے کا رخ سٹینسٹڈ کے ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا اور اس کی وجہ اس طیارے پر موجود ایک مسافر کی ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ہیں۔'

ایسکس پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملے میں ’ہائی جیکنگ یا دہشت گردی کی کوئی صورتحال‘ نہیں تھی۔

تاہم بعدازاں پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ طیارے کا رخ اس لیے موڑا گیا کیونکہ اس پر ایک ایسا شخص سوار تھا جو میٹروپولیٹن پولیس کو مطلوب ہے۔

’ہولناک تجربہ‘

اس طیارے میں سوار ایک پاکستانی مسافر عارفہ خواجہ کا کہنا ہے کہ کسی قسم کے کوئی خلل کی علامت نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ہولناک تجربہ تھا۔ پرواز میں کوئی خلل نہیں تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ آٹھ گھنٹے کی پرواز کے بعد سٹینسٹڈ میں مسافر چھ گھنٹے تک طیارے میں بیٹھے رہے۔

انھوں نے بتایا کہ کس طرح اسلحے سے لیس آٹھ پولیس افسران ایک شخص کو طیارے سے باہر لے کر گئے۔

عارفہ خواجہ کا کہنا تھا کہ ’وہ جانتے تھے ان کا ہدف کیا ہے۔ وہ اسے اپنی تحویل میں طیارے سے باہر لے گئے۔ وہ بہت پرسکون تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طیارے کا رخ موڑے جانے کے بارے میں پولیس اور پی آئی اے کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے

اس واقعے کے بعد سٹینسٹڈ ہوائی اڈے کو بند نہیں کیا گیا تاہم پی آئی اے کے طیارے کو مسافروں کے مرکزی ٹرمینل سے دور رکھا گیا۔

سٹینسٹڈ ہوائی اڈے کو برطانیہ میں اور لندن میں ریلیف ہوائی اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں غیر معمولی صورتحال میں ہوائی جہازوں کا رخ بدلا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پی آئی اے کی کسی پرواز کو برطانیہ میں لڑاکا طیاروں نے حفاظتی حصار میں لیا ہو۔

مئی 2013 میں لاہور سے مانچسٹر جانے والی ایک پرواز کو بھی جنگی طیاروں کے حصار میں لیے جانے کے بعد لندن کے سٹینسٹڈ ایئرپورٹ پر اتارا گیا تھا اور بعدازاں اس پرواز کے دو مسافروں کو پولیس نے حراست میں بھی لیا تھا۔

اسی بارے میں