امریکہ آمد پر پابندی لگانے کا قانونی اختیار حاصل ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر ٹرمپ نے 25 جنوری کو سات مسلمان ممالک پر سفری پابندی عائد کردی تھی

صدر ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے اپنے متنازع صدارتی حکم کا دفاع کیا ہے جس میں مسلم اکثریت والے سات ممالک کے باشندوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگائی گئی ہے۔

امریکہ میں ایک عدالت نے اس پابندی کو معطل کر دیا تھا اور اس عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے وفاقی اپیل کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے جہاں ججوں نے سوال کیا ہے کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی سفری پابندی صرف مسلمانوں کے خلاف ہے؟

پولیس کے سربراہان کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وفاقی اپیل کورٹ میں اس سفری پابندی پر نظر ثانی کی سماعت کو باعث شرم قرار دیا اور کہا کہ یہ سیاسی وجوہات کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔

٭ سفری پابندی کا حکم معطل،’فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے‘

٭ امریکہ آخر کتنا بُرا ہے؟

٭ ’سفری پابندی بحال ہوئی تو پھر افراتفری پھیل جائے گی‘

انھوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ عدالتیں بھی سیاسی ہو گئی ہیں اور بہتر ہوتا کہ وہ بیانات پڑھتے اور وہ کرتے جو صحیح ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکیوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگانے کا اُنھیں جو قانونی اختیار حاصل ہے وہ اتنا واضح ہے کہ ایک ہائی سکول کے نالائق طالب علم کے لیے بھی اسے سمجھنا مشکل نہ ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے باور کروایا کہ پابندی اُٹھانے کا فیصلہ امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اپیل ججوں پر زور دیا کہ صحیح فیصلہ کریں۔

سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ کی سماعت کے دوران ججوں نے سوال کیا ہے کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی سفری پابندی صرف مسلمانوں کے خلاف ہے؟

منگل کو عدالت نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں تین رکنی بنچ کے ممبر جج رچرڈ کلفٹن نے عدالتی کاروائی کے دوران سوال کیا کہ اگر اس پابندی سے پوری دنیا میں موجود صرف 15 فیصد مسلمان متاثر ہو رہے ہوں تو کیا یہ پابندی امتیازی سلوک کہلائی جا سکتی ہے یا نہیں؟

اس کارروائی میں دونوں فریقین کی جانب سے ایک گھنٹے تک دلائل دیے جاتے رہے جہاں امریکی محکمہ انصاف نے پہلے اپنا موقف بیان کیا اور عدالت سے استدا کی کہ اس پابندی کو بحال کیا جائے۔

محکمہ انصاف کے وکیل آگسٹ فلینٹجے نے عدالت کو بتایا کہ کانگریس نے صدر کو اس بات کا مجاز بنایا ہے کہ وہ ملک میں داخل ہونے والوں پر قابو رکھ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور سوڈان کے شہری امریکہ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ امریکہ میں موجود کئی صومالی شہری دہشت گرد گروپ الشباب کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔

دوسری جانب سے ریاست واشنگٹن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سفری پابندی کے حکم کی معطلی سے امریکی حکومت کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچا ہے۔

وکیل نوح پُرسل نے کہا کہ اس پابندی سے ریاست واشنگٹن کے ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں جن میں طلبہ بھی شامل ہیں اور وہ لوگ جو اپنے خاندان والوں سے ملنا چاہتے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے آخری لمحات میں اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا یہ پابندی مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہی ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

محکمہ انصاف کے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق سفری پابندی میں کسی مذہب کو نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن عدالت میں وکیل نوح پُرسل نے صدر ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیا جس سے اشارہ ملتا تھا کہ یہ پابندی مسلمانوں کے خلاف ہے۔

جج رچرڈ کلفٹن نے پوچھا کہ یہ پابندی صرف ان سات ممالک کے لیے ہے جن کے بارے میں سابق صدر اوباما کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ خطرے کا باعث بن سکتے ہیں تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ صدر اوباما کی انتظامیہ نے بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا تھا؟

جواب میں وکیل نوح پُرسل نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے مکمل پابندی کی بات کی تھی اور یہ حکم مکمل پابندی تو نہیں ہے لیکن امتیازی ضرور ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس حکم کے بعد امریکہ میں کئی جگہوں پر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ملک میں ان سات ممالک کے مسافروں میں بےچینی اور بےیقینی کی کیفیت پھیل گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں