شام: ادلب میں ’اسامہ کے ساتھی سمیت القاعدہ کے 11 ارکان ہلاک‘

جہاز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ابو ہانی المصری کے بارے میں کہا جاتا ہے انھوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی کیمپس تعمیر کیے تھے

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ شام کے شہر ادلب کے قریب امریکہ کی دو فضائی کارروائیوں میں القاعدہ کے 11 ارکان ہلاک ہو گئے ہیں جن میں اسامہ بن لادن کا ایک سابق ساتھی بھی شامل ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان کیپٹن چیف ڈیوس کا کہنا ہے کہ تین فروری کو ہونے والی ایک کارروائی میں دس افراد ہلاک ہوئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چار فروری کو ہونے والی دوسری فضائی کارروائی میں ابو ہانی المصری ہلاک ہوئے جن کے اسامہ بن لادن کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔

ابو ہانی المصری کے بارے میں کہا جاتا ہے انھوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی کیمپس تعمیر کیے تھے۔

سنہ 2011 میں امریکی فوج کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے نئے سربراہ ایمن الزواہری کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات تھے۔

کیپٹن ڈیوس کا کہنا تھا کہ یہ ان فضائی حملوں نے القاعدہ کی امریکہ اور اس کے دنیا بھر میں مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی اور براہ راست حملوں کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں القاعدہ کا ایک اتحادی گروہ جبہۃ فتح الشام سرگرم ہے جو پہلے النصرہ فرنٹ کہلاتا تھا۔

سنہ 2016 میں اس گروہ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اس کو کسی بیرونی گروہ کی حمایت حاصل نہیں جس سے یہ قیاس کیا گیا کہ اس کے القاعدہ کے ساتھ روابط ختم ہوگئے ہیں تاہم ان کی جانب سے القاعدہ کا نام نہیں لیا گیا۔

یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ فتح الشام نامی گروہ تاحال القاعدہ کے ساتھ منسلک ہے۔

اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے کے بعد گذشتہ ہفتے امریکہ نے یمن میں القاعدہ کے خلاف پہلی کارروائی کی تھی جس میں ایک نیوی سیل اور بچوں سمیت 16 شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس آپریشن کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں