فرانس: گرفتاریوں کے بعد دہشتگردی کا منصوبہ ناکام

فرانس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2015 کے آغاز سے فرانس میں دہشتگرد حملوں میں کم از کم 230 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

فرانس کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ایک 'ممکنہ دہشتگرد حملہ' چار مشکوک افراد کی گرفتاری کے بعد ناکام بنا دیا گیا ہے۔

تین مرد ملزمان اور ایک 16 سالہ لڑکی کو بم سازی کے ساز و سامان کے ساتھ جنوبی شہر موں پیلیئر میں ان کے مکان سے گرفتار کیا گیا۔

نومبر 2015 میں پیرس میں ہوئے حملے میں استعمال ہونے والے بم سے ملتا جلتا سامان اس واقعے میں بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار کی گئی لڑکی نے انٹرنیٹ پر بھی جہادی دعوے کیے ہیں۔

2015 کے آغاز سے فرانس میں دہشتگرد حملوں میں کم از کم 230 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے پیرس میں معروف عجائب گھر لوو کے باہر سکیورٹی اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کرنے والے شخص کو فرانسیسی سپاہی نے گولی مار دی۔

موں پیلیئر سے ملنے والی تصاویر میں ملزمان کے گھر کے باہر جمعے کو پولیس کارروائی کے دوران توڑا گیا دروازہ دیکھا جا سکتا ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان چار ملزمان میں سے ایک نے خودکش حملہ آور کا کردار ادا کرنا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ چاروں افراد پیرس میں کسی سیاحتی مقام پر حملہ کرنے والے تھے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان کے نشانے کے بارے میں تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔

پولیس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ملزمان کو ایسیٹون خریدنے کے بعد گرفتار کیا ہے۔ ایسیٹون دھماکہ خیز مواد بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق گرفتار کی گئی لڑکی سوشل میڈیا پر کہہ چکی ہیں کہ وہ شام و عراق جانا چاہتی ہیں یا پھر فرانس میں حملہ کرنا چاہتی ہیں۔

مقامی رپورٹس کے مطابق اس لڑکی نے ایک ویڈئو بھی بنائی تھی جس میں انھوں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے بیعت کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب فرانس کی عدالتِ عظمیٰ نے ایک مجوزہ قانون کو منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت جہادی ویب سائٹوں پر جانے والے افراد کو سزا دی جا سکے۔

اسی بارے میں