ترکی: صدر کےاختیارات میں اضافے کے لیے ریفرنڈم کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترک صدر رجب طیب اردوغان کو سنہ 2002 سے سیاسی طور پر غلبہ حاصل ہے

ترکی میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدر کے اختیارات میں اضافے کے حوالے سے تحاویز پر سولہ اپریل کو ریفرنڈم کرایا جائے گا۔

٭ اختیارات میں اضافہ، نیا قانون، ابتدائی منظوری

٭کیا ترکی کے تاریک دن لوٹ آئے؟

خبر رساں ادارے رؤئٹرز کے مطابق صدر رجب طیب اردوغان نے جمعے کو اصلاحات کے بل پر دستخط کیے ہیں جس سے رائے شماری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ان تجاویز کے تحت جدید ترکی میں پہلی بار ایگزیکٹیو پریزیڈنسی کا قیام عمل میں لانے کے لیے کہا گیا ہے۔

صدر کے پاس نئی اصلاحات کی منظوری کے بعد نئے اختیارات ہوں گے جن کے تحت وہ وزرا کا تقرر کر سکیں گے اور بہت سے قوانین کا حکم جاری کر سکیں گے۔

صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ یہ تجویز کردہ اصلاحات ترکی کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دیں گے تاہم ناقدین صدر پر آمرانہ رویے کا الزام لگا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ملک میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ایک ہی وقت میں منعقد ہوں گے جس کے لیے ممکنہ تاریخ تین نومبر 2019 ہے۔

جنوری میں ترک پارلیمان نے آئین کے آرٹیکل 18 کی منظوری دی تھی تاہم اس موقع پر پارلیمان میں ہاتھا پائی بھی دیکھنے کو ملی۔

گذشتہ برس ملک میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد میڈیا اور دیگر اداروں کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔

نئی اصلاحات کے تحت ملک کے وزیراعظم کا عہدہ موجودہ وزیراعظم بن علی یلدرم کے بجائے کسی اور شخصیت کے پاس جائے گا یا پھر اس عہدے کے جگہ نائب صدر لیں گے۔

اسی بارے میں